نیتن یاہوکو دھچکا، اگلے انتخابات کیلئے بڑے مخالفین اکٹھے ہو گئے
تل ابیب،27اپریل(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جو ان دنوں ایران اور لبنان کی جنگ کو بھی اپنی اگلی انتخابی مہم کی بنیاد میں جگہ دینے کی کوشش میں ہیں کو سیاسی اعتبار سے اتوار کے روز اس چینلج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے دو بڑے مخالفین یائر لاپڈ اور
نیتن یاہوکو دھچکا، اگلے انتخابات کیلئے بڑے مخالفین اکٹھے ہو گئے


تل ابیب،27اپریل(ہ س)۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جو ان دنوں ایران اور لبنان کی جنگ کو بھی اپنی اگلی انتخابی مہم کی بنیاد میں جگہ دینے کی کوشش میں ہیں کو سیاسی اعتبار سے اتوار کے روز اس چینلج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے دو بڑے مخالفین یائر لاپڈ اور نفتالی بینٹ نے 2026 کے عام انتخابات مل کر لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ان میں سے نیفتالی بینٹ دائیں بازو کی جماعت کے رہنما ہیں جبکہ یائر لاپڈ ایک سنٹرسٹ جماعت کے لیڈر ہیں۔ تاہم دونوں جماعتوں نے اتوار کے روز باہمی انضمام کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا متحدہ فورم بننے سے نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے تقسیم شدہ مخالفین کا انتخابی ایکا ہو گیا ہے۔ جو آنے والے انتخاب میں نیتن یاہو کے لیے مسائل پیدا کرے گا۔لاپڈ نے اس سلسلے میں کہا یہ اتحاد اسرائیل کو مستقبل میں آگے لائے گا۔ نیفتالی بینٹ نے کہا نئی جماعت اب اکٹھی ہو کر 'ٹو گیتدر' کہلائے گی اور وہ اس کے لیڈر ہوں گے۔

خیال رہے یہ دونوں جماعتیں نیتن یاہو کے بارہ سالہ حکومتی کیریئر کو مل کر ختم کرنے کے لیے باہم ملی ہیں۔نیتن یاہو آخری بار نومبر 2022 میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ وہ اب تک اسرائیل کے چھ بار وزیر اعظم بن چکے ہیں۔ اگرچہ مسلسل جنگوں کی وجہ سے ان کے دور میں اسرائیل کو معاشی اور سماجی اعتبار سے مشکلات دیکھنا پڑی ہیں۔نیتن یاہو کرپشن کے بھی کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جبکہ جنگی جرائم کی وجہ سے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande