
تل ابیب،27اپریل(ہ س)۔اسرائیل نے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کے لیے اپنا پہلا سفیر مقرر کر کے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے، اس اقدام کو سفارتی اعلانِ جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔اس اقدام نے تمام بین الاقوامی منشوروں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے مائیکل لوتیم کو صومالی لینڈ کے لیے سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر مصر اور صومالیہ کی جانب سے اس اقدام کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے جو 1991 میں یک طرفہ طور پر علیحدہ ہونے والے خطے کو جھوٹی قانونی حیثیت فراہم کرتا ہے۔
اسرائیل کا یہ قدم محض ایک سفارتی نمائندگی نہیں بلکہ باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے اور افریقا کے راستے عرب قومی سلامتی کے محاصرے کا ایک تزویراتی منصوبہ ہے۔مبصرین اس اسرائیلی اقدام کو قانونی طور پر باطل قرار دیتے ہیں۔ ایک اہم اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس اقدام کو آغاز ہی میں ناکام بنانے کے لیے ایک قانونی اور سفارتی رد عمل کیسے ترتیب دیا جائے؟ماہرین اور مصری حکام العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کے ذریعے جامع مقابلے کی حکمت عملی کا جائزہ لے رہے ہیں۔سابق مصری وزیر خارجہ سفیر محمد العرابی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ جمہوریہ صومالیہ کی خود مختاری کی سنگین خلاف ورزی اور افریقی یونین کے ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے جو نو آبادیاتی دور کی موروثی سرحدوں کو چھیڑنے سے روکتے ہیں۔العرابی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلی تحریک کا مقصد بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے علاقے میں جغرافیائی و سیاسی نقشے کی دوبارہ تشکیل ہے، جو بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور عرب قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔انہوں نے ایک متحدہ عرب-افریقی موقف کی ضرورت پر زور دیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اسلامی تعاون تنظیم سے شروع ہو تاکہ ایسے فیصلے حاصل کیے جا سکیں جو اس اقدام کو باطل کریں اور صومالی اراضی کی وحدت کی توثیق کریں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے اپنی گفتگو میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر محمد محمود مہران نے اس خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے 9 قانونی نکات متعین کیے۔اول یہ کہ عرب لیگ اور افریقی یونین کی اس قرارداد کو فعال کرنا جو صومالیہ کی خود مختاری کو متاثر کرنے والی کسی بھی مداخلت کو مسترد کرتی ہے اور علیحدگی پسند خطے میں اسرائیلی سفیر یا کسی بھی سفارتی نمائندگی کو تسلیم نہ کرنا ہے۔دوسرا نکتہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 35 کے تحت اس معاملے کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرے کے طور پر سلامتی کونسل میں پیش کرنا ہے۔تیسرا نکتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی درخواست کے ذریعے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرنا ہے تاکہ منشور کے آرٹیکل 96 کے تحت اسرائیلی تسلیم کی غیر قانونی حیثیت پر مشاورتی رائے حاصل کی جا سکے۔ مزید یہ کہ سلامتی کونسل میں ممکنہ ویٹو سے بچنے کے لیے امن کے لیے اتحاد کی قرارداد کا استعمال کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلا کر دو تہائی اکثریت سے اسرائیلی اعتراف کی مذمت کرائی جائے۔مہران نے وضاحت کی کہ چوتھے نکتے میں ان یورپی ممالک (جیسے بیلجیئم، اسپین اور جرمنی) میں جہاں عالمی دائرہ اختیار کے اصول کو مانا جاتا ہے، اسرائیلی حکام کے خلاف علاقائی سالمیت پر حملے کے جرم میں معاونت کے الزامات کے تحت فوجداری شکایات درج کرانا شامل ہے۔
پانچواں نکتہ 1950 کے عرب دفاعی معاہدے کو فعال کرنا ہے، جو کسی بھی عرب ریاست پر حملے کو سب پر حملہ تصور کرتا ہے۔ پروفیسر مہران نے شراکت داریوں کی معطلی اور اقوام متحدہ، افریقی یونین، یورپی یونین اور دیگر تنظیموں جیسے بین الاقوامی اداروں اور آلات میں اسرائیل کی رکنیت منجمد کرنے کے لیے دباو¿ ڈالنے کا مطالبہ کیا، جن کے اکثر مواثیق رکن ممالک کی تقسیم کی ممانعت کرتے ہیں، ساتھ ہی اسرائیل کو حتمی طور پر نکالنے کی دھمکی دی جائے۔ڈاکٹر مہران نے مزید کہا کہ ساتواں قانونی نکتہ اقتصادی بائیکاٹ ہے اور آٹھواں نکتہ اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اور عمومی طور پر عالمی برادری کی جانب سے اسرائیل پر سفارتی پابندیاں عائد کرنا ہے۔نواں نکتہ جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے دعوے میں فوری شمولیت اختیار کرنا ہے ... اور صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے عمل کو علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی اور ریاستوں کو تحلیل کرنے کے مستقل اسرائیلی اسلوب کے ثبوت کے طور پر جوڑنا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan