
تہران،27اپریل(ہ س)۔اکسیوس ویب سائٹ نے ایک امریکی عہدیدار اور دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی بات شامل ہے۔اس تجویز میں جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مو¿خر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایران کی یہ تازہ تجاویز امریکہ تک پہنچائیں، جن میں ایران نے پہلے ''آبنائے ہرمز اور محاصرے کے بحران'' کو حل کرنے اور اس کے ساتھ طویل مدت کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی تجویز دی ہے۔اکسیوس کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ثالثوں کو بتایا کہ ایرانی قیادت کے اندر اس بات پر اتفاق نہیں کہ امریکہ کے جوہری مطالبات کو کیسے پورا کیا جائے یا دیگر شرائط کو کس طرح تسلیم کیا جائے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاو¿س ایران کی ان نئی تجاویز پر غور کرنے کے لیے کس حد تک تیار ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج سیچویشن روم میں اجلاس کریں گے جہاں قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایران سے متعلق آپشنز پر غور کیا جائے گا۔اسی تناظر میں وائٹ ہاو¿س کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جو اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے نہ روکے۔ادھر صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ اگر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے تو وہ رابطہ کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اس دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی مذاکراتی ٹیم کی عدم موجودگی کے باوجود بات چیت کے لیے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔قبل ازیں امن کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا، جب ٹرمپ نے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا، جبکہ عراقچی عمان اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے آتے جاتے رہے۔ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں کہا: اگر وہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس فون ہے اور محفوظ رابطے موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی شرائط واضح ہیں: ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔
ایران طویل عرصے سے امریکہ سے اپنے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے، جسے وہ پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا ہے، تاہم مغربی ممالک اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اگرچہ جنگ بندی کے بعد لڑائی میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔28 فروری کو شروع ہونے والی اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ٹرمپ کو اندرون ملک جنگ ختم کرنے کے لیے دباو¿ کا سامنا ہے، جبکہ ایران کے رہنما عسکری کمزوری کے باوجود، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی روکنے کی صلاحیت کی وجہ سے مذاکرات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند رکھا ہوا ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ ایران حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت کم کرے، جبکہ ایران پابندیوں کے خاتمے اور حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan