
ماسکو،27اپریل(ہ س)۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے روس کے دورے نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے بعد کے حالات کے لیے ماسکو کے ساتھ ہم آہنگی کا موقع فراہم کیا ہے۔سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق عراقچی پیر کی صبح سینٹ پیٹرزبرگ پہنچے ہیں۔عراقچی نے یہ بیان ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں دیا جسے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پیر کے روز جاری کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے ایک اچھا موقع ہے کہ ہم اپنے روسی دوستوں کے ساتھ اس دوران جنگ کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں اور موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں۔عراقچی نے کہا کہ امریکی رویہ ہی اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات میں تاخیر کا سبب بنا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ مذاکرات، پیش رفت کے باوجود اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے، جس کا ذمہ دار انہوں نے ضرورت سے زیادہ مطالبات کو ٹھہرایا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے ٹیلی گرام ایپ پر بتایا کہ عراقچی پیر کی صبح روسی صدر ولادی میر پوتین سے ملاقات اور ان کے ساتھ بات چیت کے مقصد سے پہنچے ہیں۔روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے اس سے قبل کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ پوتین عراقچی سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس وقت ایران میں ذمہ داری کس کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مذہبی نظام کے اندر الجھاو¿ نے کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل بنا دیا ہے۔عراقچی نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ مشاورت کے دوران ان شرائط کا جائزہ لیا گیا جن کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران ہفتوں کے تنازع کے بعد اپنے حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کی کوشش کرے گا۔عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران اور عمان نے، آبنائے ہرمز پر واقع دو ممالک کی حیثیت سے اس آبی گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ماہرین کی سطح پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan