
نئی دہلی، 27 اپریل (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے بین الاقوامی کورئیر سروسز کے ذریعے امریکہ سمیت دیگر ممالک کو سائیکو ٹراپک ادویات کی اسمگلنگ کرنے والے منظم سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ گروہ فرضی کے وائی سی دستاویز، نقلی بل ، واٹس ایپ اور بینکنگ چینلوں کے ذریعہ نشہ آور ادویات کو بیرون ملک بھیجتا تھا۔ اس معاملے میں پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔ تاہم پولیس نے گرفتاریوں کی صحیح تاریخ اور مقام عام نہیں کئے ہیں۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ہرش اندورا نے پیر کو بتایا کہ 24 ستمبر 2025 کو اطلاع ملی تھی کہ ایک گینگ کورئیر کے ذریعے نشہ آور دوائیں امریکہ بھیج رہا ہے۔ اس کے بعد، اے جی ایس /کرائم برانچ کی ٹیم نے موتی نگر کے راما روڈ پر ایک کورئیر گودام پر چھاپہ مارا اور امریکہ بھیجے جا رہے ایک مشکوک پارسل کو ضبط کیا ۔ تفتیش سے پتا چلا کہ پارسل میں چھپائی گئی سائیکو ٹراپک ادویات کی کمرشیل مقدار موجود تھی۔
اس کے بعد 25 ستمبر 2025 کو کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 268/2025 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 22، 23 اور 29 کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔ تفتیش کے دوران تکنیکی شواہد، بینک ٹرانزیکشن، کورئیر ڈاکومنٹس، واٹس ایپ چیٹس اور سپلائی چین کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو شناخت کرکے گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان میں یاسر خان، ابھیشیک بھارگوا، نتن، نیرج راگھو اور امیتیش رائے شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق یاسر خان اس نیٹ ورک کا سرغنہ ہے جو ادویات کی خریداری، غیر ملکی صارفین سے رابطہ کرنے اور ادائیگیوں کا انتظام کرتا ہے۔ ابھیشیک بھارگوا پارسل تیار کرکے ڈسپیچ کرتا تھا اور فرضی کے وائی سی دستاویزات جمع کرتا تھا۔
نتن،جوگنپتی فارماسیوٹیکل کا آپریٹرہے، دوائیوں کی سپلائی اور بلوں کی تیاری میں ملوث تھا۔ نیرج راگھو فارما نیٹ ورک کے ذریعے کوآرڈینیٹر کا کردار ادا کرتا تھا، جب کہ امیتیش رائے،جو ماں گایتری فارما کا آپریٹر ہے، ادویات کی خریداری اور سپلائی کرتے تھے۔
پولیس نے پارسل سے 686.48 گرام زولپیڈیم اور 705.60 گرام ٹراماڈول برآمد کیا۔ گرفتاری کے وقت ابھیشیک بھارگوا کے پاس سے 264 گرام زولپیڈیم، 666 گرام ڈیازپام اور 349.83 گرام ٹراماڈول بھی برآمد ہوا۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ گینگ دواوں کی اسٹریپ پر بیچ نمبر مٹا کر انہیں فینسی لیس اور کاٹن جیسی اشیا کے طور پر پیک کرتا تھا۔ پھر انہیں جعلی شناخت کے ذریعے بین الاقوامی کوریئرز کے ذریعے بیرون ملک بھیجا جاتا تھا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس کے مطابق گینگ کے غیر ملکی رابطوں اور نیٹ ورک کے بارے میں بھی تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش میں مزید انکشافات ہو سکتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد