
کولکاتہ، 26 اپریل (ہ س)۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے درمیان، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو شمالی 24 پرگنہ ضلع کے ٹھاکر نگر میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، ترنمول کانگریس پر سخت نشانہ لگایا اور بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔ اپنی تقریر میں، انہوں نے متوا برادری، خواتین، کسانوں اور نوجوانوں سے متعلق کئی مسائل اٹھائے اور ریاست میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا۔
ریلی کے آغاز میں وزیر اعظم نے ”جے ماں درگا، جے ما ںکالی“ کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بنگال کے عوام فیصلہ کریں گے کہ حکومت کون بنائے گا۔ انہوں نے ریلی میں موجود لوگوں کی طرف سے بنائی گئی تصاویر کی بھی تعریف کی اوراپنے پاس منگوانے کی ہدایت دی۔
اپنے بنگلہ دیش کے دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ سال پہلے انہیں اوراکانڈی جانے اور متوا برادری سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے مندر کا دورہ کیا اور وہاں پوجا کی اور برما کا آشیرواد حاصل کیا۔ انہوں نے ہری چند ٹھاکر اور گروچند ٹھاکر کے سامنے نمن کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آشیرواد انہیں زندگی بھر متاثر کرتے رہیں گے۔
ریاست کی سیاست پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ترنمول کانگریس ماں،ماٹی، مانش کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی لیکن اب اپنے وعدوں سے بھٹک چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست ’سنڈیکیٹ راج‘ بدعنوانی اور ’جنگل راج‘ سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں ترنمول کا گھمنڈ بکھر گیا ہے، اور دوسرے مرحلے میں بی جے پی کی جیت یقینی ہے۔
وزیر اعظم نے صنعت اور روزگار کے معاملے پر بھی ریاستی حکومت پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کبھی دریائے ہگلی کے آس پاس صنعتیں پھلتی پھولتی تھیں لیکن اب کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ جوٹ ملوں کی بندش کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ترنمول حکمرانی کے تحت صنعتوں کو فروغ نہیں دیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی حکومت نے جوٹ کی کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ کیا ہے اور اس کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے۔
خواتین کی حفاظت اور بااختیار بنانے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ریاست میں خواتین کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ سندیش کھالی جیسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے ترنمول کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ایسے معاملات میں قصورواروں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر بی جے پی کی حکومت بنتی ہے تو خواتین کو مالی امداد، مفت راشن، رہائش اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے حاملہ خواتین کے لیے مالی امداد، طالبات کے لیے امداد اور مفت طبی علاج جیسی اسکیموں کا بھی ذکر کیا۔
شہریت ترمیمی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون نقل مکانی کرنے والون کو شہریت اور حقوق دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔ انہوں نے متوا اور نماسودرا برادریوں سے کہا کہ انہیں مستقل شناخت اور ملک کے دیگر شہریوں کے حقوق فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر اس مسئلہ پر ”گمراہ کن پروپیگنڈہ“ پھیلانے کا الزام لگایا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ غیر قانونی تارکین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور لوگوں سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ”ڈبل انجن والی حکومت“ کے قیام سے بنگال تیزی سے ترقی کرے گا اور ریاست ملک کی سرکردہ ریاستوں میں سے ایک بن سکتی ہے۔
وزیر اعظم نے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی تعریف کی اور کہا کہ بنگال کے نوجوانوں کی صلاحیتیں سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں اور بی جے پی اسے فروغ دے گی۔ انہوں نے ریاست کو کھیلوں کے میدان میں آگے لے جانے کا وعدہ بھی کیا۔
اپنی تقریر کے آخر میں وزیر اعظم مودی نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کا حوالہ دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ووٹ دیں اور بی جے پی کو اقتدار میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن ریاست کے مستقبل کو بدلنے کا موقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ