
کولکاتا، 26 اپریل (ہ س) مغربی بنگال میں ووٹنگ کے دوسرے مرحلے سے پہلے الیکشن کمیشن کو عملے کی کمی کا سامنا ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے کمیشن نے پہلے مرحلے میں کام کرنے والے مرکزی حکومت کے ملازمین کو دوبارہ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن ووٹنگ کے دوسرے مرحلے کے لیے 17,276 سے زیادہ ملازمین کو تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتاہے۔
کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان ملازمین کو فوری طور پر ضلعی سطح پر تعینات کرنے اور انہیں تقرری کے لیٹر جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ یہ تمام ملازمین ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں اپنے فرائض سرانجام دے چکے ہیں اور اب دوسرے مرحلے میں بھی ان کو تعینات کیا جائے گا۔ ان کی تقرری پریزائیڈنگ افسران سمیت چار مختلف کیٹیگریز میں کی جائے گی۔
اتوار کو الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ضلع وار تعیناتی میں سب سے زیادہ 6620 ملازمین کو جنوبی 24 پرگنہ میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد شمالی 24 پرگنہ میں 5680 ملازمین، نادیہ میں 1745، ہاوڑہ میں کل 724 ملازمین (جن میں 221 ڈومجور بھی شامل ہیں) کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کولکاتا میں 1109، ہگلی میں 712 اور مشرقی بردھمان میں 686 ملازمین کی تقرری کی ہدایات دی گئی ہیں۔
تاہم اس فیصلے نے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ووٹ کرمی ایکتا منچ کے جنرل سکریٹری سوپن منڈل نے پوچھا کہ صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو ہی کیوں تعینات کیا جا رہا ہے، جب کہ کئی ریاستی سرکاری ملازمین نے ابھی تک کسی بھی انتخابی ڈیوٹی کو جوائن نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی، حالانکہ انہوں نے منصفانہ اور پرامن انتخابات کی ضرورت پر زور دیا۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی