

واشنگٹن، 26 اپریل (ہ س)۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی جمہوریت پر حملہ نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ملک کو خون آلود کیا گیا ہے۔ انہوں نے اہل وطن سے اپنے باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی اپیل بھی کی۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہفتہ کی شام ناقابلِ تسخیر قلعہ بندی کے درمیان جاری وائٹ ہاوس کرسپونڈنٹس ڈنر کے دوران پروگرام کے مقام کے باہر ہوئی فائرنگ میں مکمل طور پر محفوظ رہنے والے ٹرمپ نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی ایجنٹس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کی۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے تقریباً 30 منٹ بعد وائٹ ہاوس کے بریفنگ روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سالانہ ڈنر کا اہتمام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم میں کیا گیا تھا۔ اس دوران کئی طرح کے ہتھیاروں سے لیس ایک شخص سیکورٹی کے حصار کی طرف بڑھا۔ ایجنٹس اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو آگے بڑھنے سے روکا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ شخص نے ایک ایجنٹ کو بہت قریب سے گولی ماری۔ اس افسر کے بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہونے کی وجہ سے انہونی ٹل گئی۔ افسر مکمل طور پر ٹھیک ہے۔
وائٹ ہاوس کے بریفنگ روم میں ٹرمپ کی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے کئی صحافی تو براہِ راست ہلٹن ہوٹل سے پہنچے۔ ٹرمپ نے پریس کانفرنس سے پہلے مشتبہ شخص کی تصاویر اور ویڈیوز ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کیں۔ ٹرمپ نے اس واقعے کو پروگرام کے بنیادی مقصد پر براہِ راست حملہ بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ”یہ پروگرام اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے وقف تھا۔ اس کا مقصد دونوں پارٹیوں کے ارکان اور پریس کے نمائندوں کو ایک ساتھ لانا تھا۔“
ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے سے واضح ہے کہ سیکورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل محفوظ عمارت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بہتر تو وائٹ ہاوس کا زیرِ تعمیر بال روم ہے، جہاں ڈرون پروف سیکورٹی اور شیشے کی بلٹ پروف دیواریں ہوں گی۔
انہوں نے اس فائرنگ سے پیدا ہونے والے خوف کو امریکہ پر منڈلاتے ہوئے خطرات کے ایک بڑے سلسلے سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا، ”گزشتہ چند سالوں میں یہ پہلی بار نہیں ہے جب ہماری جمہوریت پر کسی ایسے حملہ آور نے حملہ کیا ہو جو کسی کی جان لینے کے ارادے سے آیا ہو۔“ انہوں نے امریکیوں سے گزارش کی، ”دل سے یہ عہد کریں کہ باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں گے۔“ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ڈنر اگلے 30 دنوں کے اندر دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ یہ اور بھی بہتر اور زیادہ شاندار ہوگا۔
حکام کے مطابق، مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول ایلن کے طور پر ہوئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، ایلن غالباً واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ایک مہمان کے طور پر موجود تھا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی یو ایس اٹارنی جینین پیرو نے کہا کہ ایلن پر پہلے سے کئی مقدمات درج ہیں۔ وہ پہلے بھی بندوق کے ذریعے تشدد کر چکا ہے۔ اس پر ایک فیڈرل افسر پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ اسی دوران سابق ہاوس اسپیکر نینسی پیلوسی نے وائٹ ہاوس کرسپونڈنٹس ڈنر کے باہر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کو خوفناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ راحت کی بات ہے کہ ڈنر میں موجود صدر، خاتونِ اول اور باقی تمام لوگ محفوظ ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن