ایم پی کے اتحاد المسلمین جلسے میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے مولانا الٰہی نے اتحاد کا پیغام دیا
ایم پی کے اتحاد المسلمین جلسے میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے مولانا الٰہی نے اتحاد کا پیغام دیا بھوپال، 26 اپریل (ہ س)۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے مولانا ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اتوار کو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپا
بھوپال کے پروگرام کی تصویر، موجود ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے حکیم الٰہی و دیگر


ایم پی کے اتحاد المسلمین جلسے میں ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے مولانا الٰہی نے اتحاد کا پیغام دیا

بھوپال، 26 اپریل (ہ س)۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے مولانا ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی اتوار کو مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال پہنچے۔ وہ یہاں منعقدہ اتحاد المسلمین جلسے میں شامل ہوئے اور ’’امت کے اتحاد‘‘ کا پیغام دیتے ہوئے باہمی اختلافات بھلانے کی اپیل کی۔

دراصل، مسلمانوں میں اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط کرنے کے مقصد سے بھوپال کے کوہِ فضا میں واقع ایم آئی جی ہاوسنگ بورڈ کالونی میں ’’اتحاد المسلمین جلسہ‘‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں لوگ ترنگا لے کر پہنچے، جس سے پروگرام کے مقام پر یکجہتی کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ وہیں کچھ چھوٹے بچے فلسطین کے جھنڈے چھپی ہوئی ٹی شرٹ میں نظر آئے، جس کی دوسری طرف ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی فوٹو لگی ہوئی تھی۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی ایران کے سپریم لیڈر کے نمائندے مولانا ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کی آمد کے ساتھ ہی پروگرام میں جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔ مختلف مسالک کے علماء ایک اسٹیج پر جمع ہوئے اور معاشرے میں باہمی اختلافات ختم کر کے ’’صرف امت‘‘ کی سوچ کو مضبوط کرنے کا پیغام دیا۔

جلسے میں ایم پی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری شیلیندر شیلی نے اپنے خطاب میں ایران اور ہندوستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو وہ ’’آباو اجداد کا ملک‘‘ مانتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی و تاریخی رشتے رہے ہیں۔ انہوں نے 1994 کے اقوام متحدہ کے اس واقعے کا ذکر کیا جب پاکستان ہندوستان کے خلاف قرارداد لانا چاہتا تھا، لیکن ایران نے ہندوستان کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخ کا اہم حصہ ہے، جسے بھلایا نہیں جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کھڑا ہونا انسانیت، انصاف اور انسانی اقدار کے تئیں اپنی وابستگی کا اظہار کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ فاشزم اور امریکی سامراج کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی علامت ہے۔ شیلی نے فلسطین کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کی حمایت کا مطلب فلسطین کے ساتھ یکجہتی دکھانا بھی ہے۔ آخر میں شیلی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کی حمایت میں متحد ہوں، تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ کہیں کہ جب ناانصافی اور ظلم بڑھ رہا تھا، تب ہم خاموش رہے۔ یہ تاریخی ذمہ داری ہے کہ حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کی جائے اور دنیا بھر کے لوگ متحد ہو کر ناانصافی کی مخالفت کریں۔

پروگرام میں مفتی ڈاکٹر محمد عرفان عالم قاسمی، رنبیر سنگھ وزیر (صوبائی نائب صدر، اقلیتی شعبہ)، راج کمار ورما (رکن، کانگریس کمیٹی)، فتح گڑھ امام بارگاہ کے امام مولانا رضی الحسن اور شاہجہان آباد گردوارے کے گرنتھی اریجیت سنگھ بھی شامل ہوئے۔ مختلف مذاہب کے نمائندوں کی موجودگی نے پروگرام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد کا پیغام دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande