
پروجیکٹ چیتا کی بڑی کامیابی- کونو میں چیتوں کی تعداد 57 ہو گئی
بھوپال، 26 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کا کونو نیشنل پارک اب چیتوں کی محض پناہ گاہ نہیں رہا، بلکہ ایک کامیاب چیتا بریڈنگ سینٹر کے طور پر دنیا بھر میں اپنی الگ پہچان بنا چکا ہے۔ نمیبیا اور جنوبی افریقہ سے لائے گئے چیتے یہاں کی آب و ہوا اور ماحولیاتی نظام میں پوری طرح رچ بس گئے ہیں۔ کونو کی زمین اب آئے دن ننھے بچوں کی کلکاریوں سے گونج رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا ناپید ہو چکے چیتوں کو ملک میں پھر سے بسانے کا خواب ’’پروجیکٹ چیتا‘‘ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی قیادت میں مرکز اور ریاست کے محکموں کے تال میل اور بہتر انتظام سے جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں نئی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ساتھ شرمندہ تعبیر ہو رہا ہے۔
رابطہ عامہ افسر کے کے جوشی نے اتوار کو بتایا کہ پروجیکٹ چیتا کا ابتدائی مرحلہ چیلنجوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن کونو کی آب و ہوا اور محکمے کے ماہرین کے ہنرمندانہ انتظام نے تمام چیلنجوں پر قابو پاتے ہوئے جنگلی حیات کے تحفظ کے اس پرجوش منصوبے کو ناپید نسل کی دوبارہ بحالی کا کامیاب ترین متبادل بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہاں کے جغرافیائی حالات اور شکار کی وافر مقدار چیتوں کی نسل کی افزائش کے لیے بے حد سازگار ثابت ہوئے ہیں۔ مادہ چیتوں کے ذریعے مسلسل بچوں کو جنم دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ تناو سے آزاد ہیں اور کونو کو اپنا قدرتی مسکن تسلیم کر چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل 2026 میں مادہ چیتا گامنی نے 3 صحت مند بچوں کو جنم دیا۔ اس سے پہلے فروری-مارچ 2026 میں جوالا، نروہ اور آشا بھی بچوں کو جنم دے چکی ہیں۔ کونو میں چیتوں کی تعداد اب 57 ہو چکی ہے۔ 27 سے زائد بچوں کی پیدائش ہندوستان میں ہی ہوئی ہے، جو اس منصوبے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ وہیں، فروری 2026 میں بوٹسوانا سے 8-9 نئے چیتے لائے گئے، جس سے منصوبے کو مزید تقویت ملی۔
کونو کا بریڈنگ سینٹر بننا صرف ماحولیاتی کامیابی نہیں بلکہ معاشی نقطہ نظر سے بھی اہم ہے۔ چیتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ یہاں وائلڈ لائف ٹورازم کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ اس سے شیوپور اور آس پاس کے اضلاع میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھل رہی ہیں۔
پروجیکٹ چیتا: ایک تاریخی سفر
17 ستمبر 2022: وزیر اعظم مودی نے نمیبیا سے آئے 8 چیتوں کو کونو میں چھوڑا، یہ دنیا کا پہلا بین البراعظمی بگ پریڈیٹر ٹرانسفر ری اسٹوریشن پروجیکٹ تھا۔
فروری 2023: جنوبی افریقہ سے 12 مزید چیتے آئے۔
مارچ 2023: جوالا نے 70 برسوں کے بعد ہندوستان میں پہلے بچوں کو جنم دیا، جو اس وقت کی سب سے بڑی خبر تھی۔
2024: آشا اور گامنی جیسی مادہ چیتوں نے نئی نسل کو جنم دیا، جس میں گامنی نے ایک ساتھ 5 بچوں کا ریکارڈ بنایا۔
26-2025: نئی کھیپ کے ساتھ پروجیکٹ کی توسیع اور بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
کونو میں اب دوسری نسل کے چیتے بھی پروان چڑھ رہے ہیں۔ موکھی جیسی ہندوستان میں پیدا ہونے والی مادہ چیتا کا بچوں کو جنم دینا بحالی کے پروجیکٹ میں جینیٹک بریڈنگ کے طور پر سنگِ میل مانا جا رہا ہے۔ محکمہ جنگلات اب بچوں کی شناخت ناموں کے بجائے کوڈ (جیسے کے پی-1، کے پی-2) سے کر رہا ہے، تاکہ ان کے شجرہ نسب کو سائنسی طریقے سے ٹریک کیا جا سکے۔
رابطہ عامہ افسر نے بتایا کہ کونو پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو دیکھتے ہوئے اب ریاست کے گاندھی ساگر سینکچری کو چیتوں کے دوسرے گھر کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے پروجیکٹ چیتا کو مزید وسعت ملے گی اور ہندوستان میں چیتوں کی مستقل واپسی یقینی ہوگی۔ کونو نیشنل پارک میں چیتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کامیاب نسل کی افزائش نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان میں چیتوں کی واپسی کا خواب اب پورا ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن