
تہران،26 اپریل (ہ س)۔
ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے 12 دن گزرنے اور تہران پر اس کے اثرات مرتب ہونا شروع ہونے کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ہم وطنوں سے بجلی کا استعمال کم کرنے کی اپیل کردی۔ بالخصوص 40 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ایرانی صدر کو عوام سے بچت کی اپیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ مسعود بزشکیان نے ہفتے کے روز ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ بجلی کا استعمال گھٹائیں، یہ اپیل ان امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے جن سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ حکومت کا ہدف بجلی کے استعمال کو منضبط کرنا ہے۔
بزشکیان نے کہا کہ گھر میں دس بلب روشن کرنے کے بجائے ہم دو پر اکتفا کرلیں تو اس میں کیا برائی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے ۔ وہ ایرانی بندرگاہوں پر واشنٹگن کی جانب سے مسلط کردہ بحری ناکہ بندی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
جوابی کارروائی کی دھمکی
ایرانی افواج نے ہفتے کے روز امریکی ناکہ بندی کا جواب دینے کی دھمکی دی تھی۔ ایرانی مسلح افواج کی مرکزی کمانڈ ’’ خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر‘‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی فوج نے ناکہ بندی اور قزاقی جاری رکھی تو اسے یقین کر لینا چاہیے کہ اسے ہماری طاقتور مسلح افواج کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی افواج خود مختاری، سرزمین اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ صلاحیت اور آمادگی رکھتی ہیں۔ بیان کے مطابق ایرانی فوج خطے میں دشمنوں کے رویے اور حرکات و سکنات کی نگرانی کر رہی ہے اور سٹریٹجک آبنائے ہرمز کا انتظام اور کنٹرول بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اپریل کو ایران کی مکمل بحری ناکہ بندی نافذ کردی تھی ۔ یہ اقدام پاکستانی دارالحکومت میں 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی کے بعد کیا گیا تھا۔ امریکی انتظامیہ گزشتہ دنوں سے مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ محاصرہ آبنائے ہرمز کے کھلنے اور اس کے مطالبات پورے کرنے والے معاہدے تک برقرار رہے گا۔
دوسری جانب تہران نے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر غور کرنے سے قبل بحری ناکہ بندی کو ختم کیا جائے۔ اس اہم آبنائے پر 28 فروری کو جنگ چھڑنے اور ایرانی دھمکیوں کے بعد سے آمد و رفت بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan