
مکہ مکرمہ،26اپریل(ہ س)۔اس سال حج کے نظام میں آپریشنل اور تنظیمی تیاری کا ایک بلند معیار دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بنیاد گزشتہ حج سیزن کے اختتام کے فوراً بعد شروع ہونے والی قبل از وقت تیاری پر رکھی گئی۔یہ پیشگی منصوبہ بندی مختلف اداروں کے درمیان مربوط تعاون کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد حجاج کرام کو زیادہ مو¿ثر اور آسان سہولیات فراہم کرنا ہے۔حج کی تیاریوں کا آغاز گزشتہ سال 12 ذی الحجہ سے ہوا، جب حجاج کے امور کے دفاتر کو ابتدائی انتظامات کی دستاویزات فراہم کی گئیں۔ایک واضح ٹائم لائن کے تحت بنیادی خدمات کے معاہدے چار ماہ قبل مکمل کر لیے گئے، جبکہ رہائش اور ٹرانسپورٹ کے معاہدے تین ماہ پہلے طے پا گئے۔اسی طرح ویزوں کا عمل دو ماہ قبل مکمل کر لیا گیا، جس سے مجموعی انتظامی رفتار اور عملی تیاری میں نمایاں بہتری آئی۔بین الاقوامی کانفرنس جو شراکت داری کو مضبوط بناتی ہے۔تنظیمی سطح پر حج کانفرنس اور نمائش کے پانچویں ایڈیشن نے اس نظام کی تیاری کو مزید مضبوط بنایا ہے، جس میں 150 سے زائد ممالک اور 270 اداروں کی شرکت رہی۔اس موقع پر 800 سے زیادہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو بین الاقوامی شراکت داری کے پھیلاو¿ اور خدمات کے نظام میں بہتر ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔اس سال کے حج سیزن میں کئی بہتریاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد خدمات کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ ان میں مقدس مقامات کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، قواعد و ضوابط کی پابندی کو مزید مو¿ثر بنانا اور سہولیات کو بہتر کرنا شامل ہے، تاکہ انتظار کا وقت کم ہو اور مجموعی انتظامی کارکردگی میں اضافہ ہو سکے۔ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں تیزی لاتے ہوئے تمام انتظامی مراحل کو یکجا کیا گیا ہے اور کارکردگی کی مسلسل نگرانی کو حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں ممکن بنایا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ’نسک‘ کارڈ کا استعمال بھی عام کیا گیا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی سینسرز سے لیس ہے اور حجاج کے خیمہ جات میں داخلے کو منظم بنانے میں مدد دیتا ہے۔اسی طرح حاجی بغیر سامان ''سروس کو تمام حجاج تک توسیع دی گئی ہے، جس کے تحت سامان براہِ راست رہائش گاہوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس اقدام سے رش کم ہوتا ہے اور نقل و حرکت زیادہ آسان ہو جاتی ہے۔مجمع کے انتظام کے لیے حجاج کی روانگی کا نظام نہایت منظم شیڈولنگ اور راستوں کی تقسیم پر مبنی ہے، جس کی نگرانی جدید ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف فوری ردعمل ممکن ہوتا ہے بلکہ مقدس مقامات کے اندر آمد و رفت بھی زیادہ ہموار ہو جاتی ہے۔وزارت حجاج کرام کی اطمینان کی سطح کو مسلسل ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے مانیٹر کر رہی ہے۔ گزشتہ حج سیزن میں اطمینان کی شرح 91 فیصد رہی، جبکہ عمرہ کے دوران یہ شرح 94 فیصد تک پہنچ گئی، جو خدمات کے معیار کے تسلسل اور بہتری کی واضح علامت ہےاس کے ساتھ موجودہ سیزن میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے، تاکہ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جا سکے اور رش کے امکانات کی پیشگی پیشگوئی ممکن ہو۔ نسک ایپ اس عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، جو 100 سے زائد ڈیجیٹل خدمات فراہم کرتی ہے اور 51 ملین سے زیادہ صارفین تک رسائی رکھتی ہے۔مزید یہ کہ نسک اسمارٹ اسسٹنٹ بھی متعارف کرایا گیا ہے جو زبان کی رکاوٹوں کو کم کرنے اور حجاج کے درمیان مو¿ثر رابطے کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔مانیٹرنگ اور کنٹرول سینٹر میں 90 سے زائد انٹرایکٹو ڈیش بورڈز فراہم کیے گئے ہیں، جو 200 سے زیادہ اداروں کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ نظام آپریشنل اشاریوں کی حقیقی وقت میں نگرانی اور فوری فیصلہ سازی میں مدد دیتا ہے، جس سے مجموعی کارکردگی اور ردعمل کی رفتار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔علاقائی چیلنجز کے باوجود حج کا پورا نظام اپنی اعلیٰ تیاری ثابت کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے لچکدار آپریشنل منصوبے، مشترکہ کنٹرول رومز اور متبادل انتظامات فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ خدمات کا تسلسل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔ تمام عمل کی نگرانی بھی مسلسل اور فوری طور پر کی جا رہی ہے۔نظامِ حج نے احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کا ایک جامع پیکج نافذ کیا ہے، جس میں صحت کے شعبے کی تیاری کو مزید مضبوط بنانا، فیلڈ سطح پر نگرانی میں اضافہ کرنا اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے منصوبوں کو فعال کرنا شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انتظامی حکمتِ عملی کی مو¿ثریت جانچنے کے لیے پیشگی ٹیسٹس بھی کیے جا رہے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے بروقت اور مو¿ثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد حجاج کرام کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم کرنا ہے۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan