
واشنگٹن،20اپریل(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ خلیجِ عمان میں ایک امریکی ڈسٹرائر نے ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز پر فائرنگ کی اور پھر اس پر قبضہ کر لیا۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر کہا کہ ''توسکا'' نامی یہ کارگو جہاز، جو ایران کا پرچم لہرا رہا تھا، نے امریکی بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایرانی جہاز نے رکنے کے احکامات کو نظر انداز کیا، جس کے بعد میزائلوں سے لیس امریکی ڈسٹرائر نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کو مکمل طور پر روک دیا اور اس کے انجن روم میں نقصان پہنچا کر اسے غیر فعال کر دیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت امریکی میرینز جہاز کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق ''توسکا'' پہلے ہی امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے عائد پابندیوں کے تحت آتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ڈسٹرائر ''یو ایس ایس سبروانس'' نے جہا ز'' توسکا ''کو اس وقت روکا جب وہ مبینہ طور پر ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہ کی طرف جا رہا تھا۔کمانڈ کے مطابق ''توسکا'' کے عملے نے چھ گھنٹوں کے دوران بار بار دیے گئے انتباہات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد سبروانس نے جہاز کو انجن روم خالی کرنے کی ہدایت دی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی ڈسٹرائر نے متعدد گولیاں چلا کر جہاز کے انجن روم کو نشانہ بنایا اور اس کے نظامِ حرکت کو ناکارہ بنا دیا۔کمانڈ نے یہ بھی بتایا کہ ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک امریکہ نے 25 تجارتی جہازوں کو یا تو واپس جانے یا ایرانی بندرگاہوں کی طرف لوٹنے پر مجبور کیا ہے۔اتوار کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جو 8 اپریل کو طے پایا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ''ایکس '' اکاو¿نٹ پر کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر عائد ناکہ بندی نہ صرف جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک غیر قانونی اقدام اور بذاتِ خود ایک جرم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) اور جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 (1974) کے مطابق کسی ملک کی بندرگاہوں یا ساحلوں کی ناکہ بندی واضح طور پر جارحیت کے زمرے میں آتی ہے۔بقائی کے مطابق امریکہ کی جانب سے دانستہ طور پر ایرانی عوام پر اجتماعی سزا مسلط کرنا جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جس میں ہفتے کے روز دوبارہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا شامل ہے۔تاہم انہوں نے ساتھ ہی زور دیا کہ معاہدہ کسی نہ کسی صورت میں ضرور ہوگا۔ٹرمپ کے مطابق امریکہ نے ایک انتہائی منصفانہ اور معقول معاہدہ پیش کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ ایران اسے قبول کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ایرانی فریق کے پاس آخری موقع موجود ہے۔انہوں نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا تاکہ جنگ کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔اس حوالے سے ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایک امریکی وفد پیر کے روز اسلام آباد روانہ ہوگا تاکہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: میرے نمائندے اسلام آباد جا رہے ہیں، وہ پیر کی شام مذاکرات کے لیے وہاں ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کے نائب صدر جے ڈی وینس، جنہوں نے گزشتہ ہفتے امریکی وفد کی قیادت کی تھی، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان نہیں جائیں گے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ تہران فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی نئی مذاکراتی نشست میں شرکت کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔ایرانی نشریاتی ادارے نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکراتی دور میں شرکت کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دورِ مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، تاہم ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا تھا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے مگر اختلافات اب بھی باقی ہیں۔اس دوران پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں تاکہ دونوں فریق کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور 28 فروری سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan