
نئی دہلی، 20 اپریل (ہ س) افغانستان کے سابق فاسٹ باولر شاپور زدران اس وقت ایک سنگین اور نایاب بیماری سے لڑ رہے ہیں۔ وہ دہلی کے ایک اسپتال کے آئی سی یو میں داخل ہیں۔
ای ایس پی این کرک انفوکے مطابق، زدران، جو 39 سال کے ہونے والے ہیں، کو ہیموفاگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس نامی جان لیوا حالت کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ بیماری جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے بہت زیادہ سوزش اور انفیکشن ہو جاتا ہے۔ یہ بون میرو، جگر، تللی اور دیگر اعضاءکو متاثر کرتا ہے۔ یہ حالت عام طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے، لیکن یہ بالغوں میں بھی ہو سکتی ہے۔
شاپور زدران نے 2009 سے 2020 کے درمیان افغانستان کے لیے 44 ون ڈے اور 36 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں ان کی صحت پہلی بار خراب ہوئی جس کے بعد افغان ڈاکٹروں نے انھیں علاج کے لیے بھارت جانے کا مشورہ دیا۔ وہ جنوری میں دہلی پہنچے، جہاں وہ اسپتال میں داخل تھے۔ اس دوران ان کی اہلیہ اور سابق کپتان اصغر افغان بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی، غمائی زدران نے بتایا کہ انفیکشن ابتدائی طور پر کافی سنگین تھا، اور تپ دق سمیت دیگر انفیکشن ان کے پورے جسم میں پھیل چکے تھے، یہاں تک کہ ان کے دماغ تک پہنچ گئے تھے۔
علاج کے بعد ان کی حالت کچھ دیر کے لیے بہتر ہوئی اور انھیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، لیکن بعد میں انھیں دوبارہ انفیکشن ہو گیا۔ اس کی حالت اس وقت خراب ہو گئی جب اسے ڈینگی ہو گیا، جس سے اس کا مدافعتی نظام بری طرح کمزور ہو گیا۔ مارچ کے آخر میں بون میرو ٹیسٹ سے ہیموفاگوسائٹک لیمفوہسٹیوسائٹوسس کا مرحلہ 4 ظاہر ہوا۔ وہ اس وقت بہت کمزور ہے اور تقریباً 14 کلوگرام وزن کم کر چکا ہے۔ ان کے بھائی کے مطابق وہ زیادہ بات کرنے سے قاصر ہیں اور زیادہ تر وقت سوتے ہیں۔
انہیں کرکٹ کی دنیا سے مسلسل سپورٹ بھی مل رہی ہے۔ راشد خان، اصغر افغان اور حشمت اللہ شاہدی سمیت کئی کھلاڑی ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان کے سابق کھلاڑی شاہد آفریدی سمیت کئی بین الاقوامی کرکٹرز نے بھی ان کی خیریت دریافت کی ہے۔ اہل خانہ کو امید ہے کہ حالیہ سٹیرائیڈ علاج سے ان کی حالت میں بتدریج بہتری آئے گی اور وہ اس مشکل دور سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی