
تہران/واشنگٹن، 20 اپریل (ہ س)۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے دوران خلیج عمان میں پیش آنے والے واقعے کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ ایرانی فوج نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ سے کنٹینر جہاز پر فائرنگ اور اسے قبضے میں لینے کا بدلہ لیا جائے گا۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ،ایران کی فوج نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ”جارح امریکہ نے بحیرہ عمان کے پانیوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے اور سمندری راستے پر ڈاکہ ڈالا ہے۔“
سی این این، الجزیرہ، سی بی ایس نیوز کی رپورٹس کے مطابق ایرانی فوج نے کہا کہ امریکہ نے جہاز کے بحری آلات کو تباہ کر دیا۔ جہاز کے ڈیک پر اپنے فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔ اس پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فوج جلد ہی امریکہ کی جانب سے اس مسلح بحری قزاقی کا جواب دے گی۔ دریں اثنا، امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایک امریکی ڈسٹرائر نے ایرانی پرچم والے جہاز پر کئی راو¿نڈ فائر کیے جو امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اتوار کو اس پورے واقعے پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ کمانڈ نے کہا کہ جب سے ناکہ بندی شروع ہوئی ہے، امریکہ نے 25 تجارتی جہازوں کو واپس مڑنے یا ایرانی بندرگاہ پر واپس جانے کی ہدایت دی ہے۔
خلیج عمان میں ہونے والے اس واقعے سے چند گھنٹے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک ٹیم اسلام آباد بھیج رہے ہیں۔ ایران نے اب کہا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ناکہ بندی نہیں ہٹاتا ، تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ ادھر، ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والی سرکاری عمارتوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کو پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ صدر نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی وارننگ جاری کی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ ”سفارت کاری کے ساتھ دھوکہ دہی کریں گے۔“ صدر ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز جس نے آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کو روکنے کی کوشش کی تھی، اب امریکی تحویل میں ہے۔ امریکہ جانچ کر رہا ہے کہ جہاز پر کیا کیا موجود ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد