مغربی بنگال میں بنگلہ دیشیوں کی کوئی جگہ نہیں، ممتا اب دیدی نہیں اپی ہو گئی ہیں: وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو
بھوپال/بانکورا، 2 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جمعرات کو مغربی بنگال کے بانکورا ضلع میں اسمبلی انتخابات کے لیے تشہیر کی۔ انہوں نے بانکورا ضلع کے سلتورا اسمبلی حلقہ سے بی جے پی امیدوار چاندنا باری، چھتنا حلقہ کے امیدوار س
بانکورا ضلع میں سی ایم ڈاکٹر یادو نے عوام سے خطاب کیا


بھوپال/بانکورا، 2 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے جمعرات کو مغربی بنگال کے بانکورا ضلع میں اسمبلی انتخابات کے لیے تشہیر کی۔ انہوں نے بانکورا ضلع کے سلتورا اسمبلی حلقہ سے بی جے پی امیدوار چاندنا باری، چھتنا حلقہ کے امیدوار ستیہ نارائن مکھوپادھیائے، بانکورا کے امیدوار نیلادری شیکھر دانا، برجورا حلقہ سے امیدوار بلیشور سنگھا اور اونڈا حلقہ کے امیدوار امرناتھ شاکھا کی مشترکہ نامزدگی ریلی سے خطاب کر کے کاپرچہ نامزدگی جمع کرائے۔

انہوں نے کہا کہ بانکورا میں آج ہمارے تمام امیدواروں کی نامزدگی بھرنے کا موقع ہے۔ یہ زمین سبھاش چندر بوس، سوامی وویکانند، گرو دیو رویندر ناتھ ٹیگور اور مشہور مجسمہ ساز رام کنکر کی زمین ہے۔ آج انتخابی بگل بج رہا ہے۔ ممتا دیدی کے راج میں سب پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممتا اب دیدی نہیں رہی ہیں، یہ اپی ہو گئی ہیں۔ یہ بات پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت کو آنے سے اس بار کوئی نہیں روک سکتا۔ مغربی بنگال میں بنگلہ دیشیوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دنیا ہندوستان کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ ممتا بنرجی حکومت نے لگاتار ہندووں کی تذلیل کرنے کا کام کیا ہے۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ ممتا دیدی بنگالی مانوش کے حقوق بنگلہ دیش کو دینے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ انتخاب نہیں بلکہ دھرم یودھ (مذہبی جنگ) ہے۔ اس ماحول میں شری رام کا منتر ہم سب کو طاقت دے رہا ہے۔ آج ہمارے بنگال میں یہاں کا نوجوان، خاتون، غریب اور کسان، سب لوگ تبدیلی کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔ سب اپنی آن بان شان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ آج دنیا کی کوئی طاقت بی جے پی کو بنگال میں اقتدار حاصل کرنے سے روک نہیں سکتی۔ بانکورا ضلع میں 15 سال سے اقتدار پر قائم ممتا دیدی کے راج میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ کوئی اڈیشہ جا رہا ہے، کوئی مہاراشٹر جا رہا ہے، کوئی جھارکھنڈ جا رہا ہے۔ حال میں بنگال کا نوجوان کنگال ہو رہا ہے اور بنگلہ دیشی مالامال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں دنیا ہندوستان کا قد اور اس کا وقار بڑھتا دیکھ رہی ہے۔ بنگلہ دیش سے درانداز آ رہے ہیں اور ہمارے حقوق پر قبضہ کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے لوگوں کے لیے بنگال میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آپ کے چہرے کا نور بتا رہا ہے کہ رزلٹ آنے والا ہے، بی جے پی جیتنے والی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہم ’سب کا ساتھ-سب کا وکاس-سب کا وشواس-سب کا پریاس‘ کے منتر پر چل رہے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی بہن صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس سے بی جے پی کی پالیسی اور کام کرنے کا طریقہ پتہ چلتا ہے۔ بائیں بازو، کانگریس اور ممتا کی پارٹی نے کبھی ایس سی-ایس ٹی کو اہمیت نہیں دی۔ غریب سے غریب آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے، اسے پکا مکان دلانے کا حوصلہ صرف بی جے پی کے پاس ہے۔ آج غریب کو پکا مکان اور راشن مل رہا ہے۔ آج ایس سی-ایس ٹی طبقے کو دس لاکھ سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کے قرض اسٹینڈ اپ اسکیم کے ذریعے ملے ہیں۔ 25 کروڑ لوگ خطِ افلاس سے باہر آ گئے ہیں۔

ہمارا ملک مضبوط پوزیشن میں ہے

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آج دنیا بھر میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، مگر وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہمارا ملک پھل پھول رہا ہے۔ وہ زمانہ گیا جب دہشت گرد بڑے شہروں میں دھماکے کر کے چلے جاتے تھے، آج ہندوستان پاکستان کے اندر گھس کر دہشت گردوں کو ختم کرتا ہے۔ 56 انچ کے سینے والے وزیراعظم مودی کی قیادت میں فوج کا حوصلہ بڑھا ہے۔ آج ممتا دیدی نے 77 طبقات کی او بی سی لسٹ میں مسلم ذاتیں جوڑ دیں، ہندووں کو نہیں جوڑا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ووٹ کے لیے ایسا پاگل پن کیوں کرنا؟ اس لیے بنگال کے لوگوں نے بی جے پی کو اقتدار میں لانے کی قسم کھائی ہے۔ اب ممتا دیدی کو بائی بائی کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ماحول بتا رہا ہے کہ بی جے پی ہی جیتے گی۔ ممتا دیدی کی حکومت میں ٹیچر اسکام ہوا، 26 ہزار تقرریاں منسوخ کی گئیں۔ ان کے دورِ حکومت میں وزیراعظم آواس اسکام اور منریگا اسکام ہوا۔ ممتا نے صرف ہندوؤں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے 24788 سے زیادہ مقدمات درج کر کے بہنوں کو رسوا کیا ہے۔ یہ تمام پریشانیاں ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب بنگال کو آگے بڑھانے کا وقت آ گیا ہے۔ آزادی سے پہلے بنگال میں سب سے زیادہ ٹیلنٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ پہلے کمیونسٹوں اور بعد میں ممتا کی پارٹی نے ریاست کا بیڑا غرق کر دیا۔ آج حساب چکتا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم سب جان کی بازی لگا کر بی جے پی کو جتانے والے ہیں۔ ہمیں ایک ایک کے گھر جانا ہے، 24 گھنٹے کام کرنا ہے، ہم بنگال میں کمل کھلا کر رہیں گے، بی جے پی کو جتا کر رہیں گے۔ جب تک ایک ایک ووٹ بی جے پی کے حق میں نہ پڑ جائے، تب تک چین سے نہیں بیٹھنا ہے۔

دوسری طرف، میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ آج بنگال کی سرزمین پر بانکورا ضلع سے ہمارے پانچ امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرنے کے لیے میں مدھیہ پردیش سے آیا ہوں۔ جس طرح سے یہاں ہمارے کارکنوں کے درمیان ماحول دکھائی دے رہا ہے، مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس پورے علاقے میں ہر ایک کارکن جوش اور جذبے سے بھرا ہوا ہے۔ بنگال میں ممتا دیدی کی حکومت سے تمام لوگ پریشان ہیں، بنگلہ دیشی دراندازوں کو جس طریقے سے فروغ دیا گیا اور ہندوؤں کی تذلیل کی گئی۔ آج وہ سارا حساب چکتا کرنے کا جمہوریت میں سب سے بڑا موقع انتخابات کا ہوتا ہے۔ ایسے میں یقیناً وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں جب ملک آگے بڑھ رہا ہے اور وزیرِ داخلہ امت شاہ کی قیادت میں تمام دراندازوں سمیت ہر قسم کے مجرمانہ عناصر پر کارروائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں عوام کا رجحان بی جے پی کے ساتھ ہے اور یقینی طور پر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande