
واشنگٹن، 02 اپریل (ہ س)۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے حملے کو ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے تقریباً نصف صدی سے جاری تشدد کا بدلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ٹرمپ نے بدھ کی رات امریکی ووٹروں سے جنگ کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ صدر ٹرمپ نے قوم سے اپنے تقریباً 20 منٹ کے خطاب میں امریکی فوجی مہم کی تعریف کی۔ انہوں نے ہم وطنوں سے صبر رکھنے کی اپیل کی اور اس جنگ کو امریکیوں کے محفوظ مستقبل کے لیے کی گئی ایک ”سرمایہ کاری“ قرار دیا۔ 28 فروری سے چھڑی جنگ کے دوران ایران کو ہدف بنا کر صدر ٹرمپ کا قوم سے یہ پہلا خطاب ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے کہا، ”مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اہم تزویراتی (اسٹریٹجک) اہداف مکمل کرنے کے قریب ہیں۔“ انہوں نے اپنے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے کہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں وہ ایران پر بمباری کر کے اسے ”پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے۔“ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں پر حملہ کر کے جنگ کو مزید بڑھانے کی اپنی دھمکی کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، ”ایران کا نیا لیڈر کم کٹر پسند ہے اور کہیں زیادہ سمجھدار ہے۔ اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے، تو ہماری نظریں کچھ اہم ٹھکانوں پر رہیں گی۔“
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام جنگ ختم کرنے کے لیے ثالثوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاوس سے خطاب کے دوران انہوں نے اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ امریکہ نے اقتدار کی تبدیلی حاصل کر لی ہے اور ان کے تمام اصل لیڈروں کی موت ہو چکی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ”اگر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا ہے، تو ہم ان کے بجلی گھروں پر ایک ساتھ حملہ کریں گے۔“
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کے تیل کے ٹھکانوں پر حملہ نہیں کیا ہے، حالانکہ ان کو نشانہ بنانا سب سے آسان تھا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت کا موازنہ جدید تاریخ کے دوسرے تنازعات سے کیا۔ انہوں نے کہا، ”یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اس تنازعہ کو صحیح تناظر میں دیکھیں۔“ انہوں نے حالیہ جنگوں میں امریکہ کی شمولیت کی مدت شمار کرائی- پہلی عالمی جنگ: 1 سال، 7 ماہ، 5 دن؛ دوسری عالمی جنگ: 3 سال، 8 ماہ، 25 دن؛ کوریائی جنگ: 3 سال، 1 ماہ، 2 دن؛ ویتنام جنگ: 19 سال، 5 ماہ، 29 دن اور عراق جنگ: 8 سال، 8 ماہ، 28 دن۔
انہوں نے ان لوگوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کی جو بیرونِ ملک کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں اور ملک میں بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں کو لے کر فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا، ”ہم طاقتور ترین ممالک میں سے ایک ایران کے خلاف اس فوجی مہم میں 32 دنوں سے شامل ہیں۔ یہ مہم اتنی طاقتور اور شاندار ہے کہ ایران کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اب وہ اصل میں ہمارے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ یہ آپ کے بچوں اور آپ کے پوتے پوتیوں کے مستقبل کے لیے کی گئی ایک سچی سرمایہ کاری ہے۔“
صدر نے کہا کہ ایران جنگ ختم ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس میں ابھی دو سے تین ہفتے اور لگیں گے۔ ٹرمپ نے کہا، ”آج رات، مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ اہم تزویراتی مقاصد پورے ہونے کے قریب ہیں۔ ہم نے یہ سب کر دکھایا ہے۔ ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، ان کے میزائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں یا انہیں تباہ کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدامات ایران کی فوج کو مفلوج کر دیں گے، دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے کی ان کی صلاحیت کو کچل دیں گے اور انہیں ایٹم بم بنانے کی صلاحیت سے محروم کر دیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے غیر معمولی کام کیا ہے۔“
انہوں نے جنگ کو امریکہ کی سلامتی اور آزاد دنیا کی حفاظت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے آغاز میں اپنے پیشروؤں پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سے پہلے آنے والے امریکی صدور کو ان کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی ایرانی حکومت سے ”نمٹ لینا چاہیے تھا۔“ ٹرمپ نے کہا، ”ہمیں ایران میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ان کے تیل کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں ان کی کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم وہاں اپنے اتحادیوں کی مدد کرنے کے لیے موجود ہیں۔“ صدر نے امریکہ میں گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے لیے ایرانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔
انہوں نے کہا، ”لوگ گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو دیکھ کر پریشان ہیں۔ یہ قلیل مدتی اضافہ مکمل طور پر ایرانی حکومت کی کمرشیل تیل ٹینکروں اور پڑوسی ممالک کے خلاف کیے گئے پاگل پن بھرے دہشت گردانہ حملوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اس بات کا ایک اور ثبوت ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے معاملے میں ایران پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔“
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن