
نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س)۔ اسٹاک مارکیٹ میں آج شدید مندی رہی۔ بدھ کو زبردست ٹریڈنگ کے بعد ملکی سٹاک مارکیٹ کو زبردست گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسٹاک مارکیٹ ابتدائی کاروبار میں 2.15 فیصد سے زیادہ گر گئی۔ ٹریڈنگ کے پہلے گھنٹے میں سینسیکس تقریباً 1,600 پوائنٹس گر گیا، جبکہ نفٹی بھی تقریباً 500 پوائنٹ گر گیا۔ مارکیٹ میں تیزی سے گراوٹ کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو ابتدائی تجارت میں 9 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بی ایس ای پر درج کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن ٹریڈنگ کے پہلے گھنٹے کے بعد 412.84 لاکھ کروڑ روپے تک گر گئی، جو گزشتہ کاروباری دن بدھ کو 422.01 لاکھ کروڑ روپے تھی۔ اس طرح، سرمایہ کاروں کو تجارت کے پہلے گھنٹے میں تقریباً 9.17 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
ٹریڈنگ کے پہلے گھنٹے کے بعد، سینسیکس کے تمام 30 اسٹاک گراوٹ کے ساتھ سرخ رنگ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ کمی ایٹرنل (4.44 فیصد)، سن فارماسیوٹیکلز (4.05 فیصد) اور انٹرگلوب ایوی ایشن (4.02 فیصد) کے حصص میں دیکھی گئی۔ سینسیکس کی طرح نفٹی کے تمام 50 اسٹاک بھی گراوٹ کے ساتھ سرخ رنگ میں ٹریڈ کر رہے تھے۔ تاہم، ٹی سی ایس اسٹاک میں کبھی کبھار خریداری کا رجحان رہا۔ اس کے باوجود یہ اسٹاک بھی کمزوری کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران نے پہلے ہی دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ سے عالمی معیشت متاثر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بارے میں مسلسل بدلتے ہوئے موقف نے دنیا بھر میں ایک انتشار کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ نتیجتاً، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹیں مسلسل اتار چڑھاو¿ کا سامنا کر رہی ہیں۔
دھامی سیکیورٹیز کے نائب صدر پرشانت دھامی کا کہنا ہے کہ جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو فروغ دینے کا اشارہ دے کر کہا تھا کہ امریکا جلد ہی مغربی ایشیا میں جاری جنگ سے دستبردار ہو جائے گا، وہیں یکم اپریل کو ایران کے خلاف جارحانہ موقف کا اشارہ دے کر پوری دنیا کو بے وقوف بنایا۔ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ کھلتا ہے تو جنگ بندی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر امریکہ ایران پر اپنے حملے جاری رکھے گا۔
ٹرمپ کے بیان سے دنیا بھر کی منڈیوں میں افراتفری مچ گئی۔ جہاں خام تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی تھیں، وہیں دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بڑے پیمانے پر فروخت کا آغاز ہوا۔ عالمی خوف و ہراس کے باعث ملکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مندی ہوئی۔ پرشانت دھامی کا استدلال ہے کہ گھریلو اسٹاک مارکیٹ میں موجودہ بلند اتار چڑھاو¿ کو دیکھتے ہوئے، چھوٹے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ سے گریز کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر، انہیں بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی