قبائلی پس منظر سے ہندوستانی ٹیم تک: کرن پسدا کی جدوجہد اور کامیابی کی متاثر کن کہانی
رائے پور، 2 اپریل (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے ابھرتے ہوئے فٹ بالر کرن پسدا نے اپنی جدوجہد، محنت اور مضبوط ذہنیت کے ذریعے قومی شناخت حاصل کی ہے۔ حال ہی میں، انہوں نے کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے سیمی فائنل میں اروناچل پردیش کے خلاف پینلٹی شوٹ آو¿ٹ کے دوران
Sports-Football-KITG2026-Kiran


رائے پور، 2 اپریل (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے ابھرتے ہوئے فٹ بالر کرن پسدا نے اپنی جدوجہد، محنت اور مضبوط ذہنیت کے ذریعے قومی شناخت حاصل کی ہے۔ حال ہی میں، انہوں نے کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے سیمی فائنل میں اروناچل پردیش کے خلاف پینلٹی شوٹ آو¿ٹ کے دوران گول کیپنگ کرکے اپنے تجربے اور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔

24 سالہ کرن اپنے کیرئیر کے عروج پرمانی جا ررہی ہیں۔وہ کروشین ویمن لیگ میں انڈیا اور یورپ میں ڈینامو زاگریب کے لیے کھیل چکی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی ہمہ جہت صلاحیت ہے،جس کی بنا پر وہ میدان میں کسی بھی پوزیشن میں کھیل سکتی ہیں۔

کرن کا سفر آسان نہیں رہا، حالانکہ انہیں شروع میں اپنے اسکول اور خاندان کی طرف سے مکمل تعاون حاصل ہوا۔ ان کے بھائی گریش،جو خود ایک قومی سطح کے کھلاڑی ہیں گریش، ان کے لیے تحریک کا کام کیا۔

کرن نے بتایا، ”مجھے اسکول میں کافی حمایت ملی۔ وہیں سے مجھے ریاستی اور قومی سطح پر کھیلنے کا موقع ملا اور ہر انتخاب کے ساتھ، میرا اعتماد بڑھتا گیا“۔اس کے بعد وہفزیکل ایجوکیشنکی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رائے پور چلی گئیں۔ چھتیس گڑھ ویمن لیگ کے دوران ان کی کارکردگی نے سلیکٹرز کی توجہ مبذول کرائی، جس نے انہیں قومی کیمپ میں بلایا۔ تاہم، اس وقت وہ انتخاب کے لیے تیار نہیں تھیں۔

انہوں نے سائی میڈیا کے حوالے سے کہا ”اس وقت، میری فٹنس اور ذہنیت سینئر کھلاڑیوں کی سطح پر نہیں تھی، اس لیے مجھے منتخب نہیں کیا گیا۔ لیکن میں نے وہاں سے بہت کچھ سیکھا“۔

کرن نے پھر خود پر سخت محنت کی، اپنی فٹنس کو بہتر بنایا، میچوں کا تجزیہ کیا اور اپنی پوزیشن کی سمجھ کو بہتر بنایا۔ سب سے بڑی تبدیلی ان کی سوچ میں آئی۔

انہوں نے کہا”میں نے اپنے آپ سے کہا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں منفی نہیں سوچوں گی کیونکہ اس کا اثر براہ راست کارکردگی پر پڑتا ہے۔“

ان کے کوچ یوگیش کمار جانگڑ نے اس تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کرن کہتی ہیں”جب میں خود کو کمزور محسوس کرتی ہوں،توان سے بات کرتی ہوں۔ وہ ہمیشہ مجھے مثبت رہنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔“

اپنی متاثر کن گھریلو کارکردگی کے بعد، انہوں نے کیرالہ بلاسٹرس جیسے کلبوں کے لیے کھیلنے کے مواقع حاصل کیے۔ انہوں نے اپنے کھیل کو بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی ہمہ جہت صلاحیت کو اپنی طاقت بنایا۔

کرن نے کہا،”میں نے اسٹرائیکر کے طور پر شروعات کی، پھر مڈفیلڈ میں کھیلا اور اب قومی ٹیم میں فل-بیک کا کردار ادا کر رہی ہوں۔ ایک کھلاڑی کو ہر پوزیشن کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“

کرن 2022 سیف چیمپئن شپ میں ہندوستانی ٹیم کا حصہ تھیں اور کئی بار ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ تاہم، بڑے ٹورنامنٹس سے باہر ہونا بھی ان کے کیریئر کا حصہ رہا ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا میں ہونے والے اے ایف سی ویمنز ایشین کپ سے باہر ہونا ان کے لئے مایوس کن رہا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بڑے ٹورنامنٹ کے لیے منتخب نہ ہونے سے تکلیف ہوتی ہے لیکن اب میں اسے حوصلہ افزائی کے طور پر لیتی ہوں اور مزید محنت کرتی ہوں۔کرن نے دباو¿ کو سنبھالنا بھی سیکھ لیا ہے۔ وہ مانتی ہیں کہ اعلیٰ سطح پر کھیلنے کے لیے ذہنی مضبوطی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ اعلیٰ سطح پر کھیلتے ہیں تو ہمیشہ دباو¿ رہتا ہے۔ اسے سنبھالنا سیکھنا ضروری ہے۔

قبائلی پس منظر سے آنے والی کرن کا خیال ہے کہ دور دراز علاقوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، لیکن مواقع کی کمی ہے۔ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز جیسے پلیٹ فارم اس خلا کو پُر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”قبائلی علاقوں میں بہت ٹیلنٹ ہے، لیکن انہیں مواقع نہیں ملتے۔ یہ ٹورنامنٹ انہیں ایک پلیٹ فارم اور آگے بڑھنے کا اعتماد فراہم کرتا ہے۔“

اس وقت کرن کا مقصد انڈین ویمن لیگ میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا اور قومی ٹیم میں باقاعدہ جگہ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ منتخب نہیں ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھے کھلاڑی نہیں ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ کو مزید محنت کرنی ہوگی۔کرن پسدکی یہ کہانی نہ صرف کھیلوں کی دنیا کے لیے متاثر کن ہے بلکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سخت محنت اور مثبت سوچ کے ذریعے مشکل حالات میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande