
نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س):۔
راجیہ سبھا نے جمعرات کو آندھرا پردیش تنظیم نو (ترمیمی) بل، 2026 کو صوتی ووٹ سے منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ہی اس بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظوری دے دی ہے۔ لوک سبھا نے اسے بدھ کو منظور کر لیا تھا۔
اس بل کی منظوری سے اب باضابطہ طور پر امراوتی کو آندھرا پردیش کا واحد اور مستقل دارالحکومت تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ 2014 کے تنظیم نو کے ایکٹ میں ترمیم کرتا ہے، جس کا مقصد دارالحکومت کے مسئلے سے متعلق جاری غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنا اور 2 جون 2024 سے امراوتی کو دارالحکومت کے طور پر قانونی حیثیت دینا ہے۔
راجیہ سبھا میں بحث کے دوران مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر کنجراپو راما موہن نائیڈو نے واضح کیا کہ این ڈی اے حکومت امراوتی کی تعمیر نو کے حق میں ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مختلف اوقات میں مختلف موقف اختیار کئے گئے جس سے ریاست میں انتشار پیدا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ لوگوں کو یہ بھی واضح نہیں ہو رہا تھا کہ ریاست کا دارالحکومت دراصل کہاں ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر سابقہ حکومت کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امراوتی پروجیکٹ میں تعاون کرنے والے آندھرا پردیش کے کسانوں اور خواتین کی قربانی اور محنت کو سلام کیا جانا چاہئے۔
کانگریس ایم پی رینوکا چودھری نے کہا کہ اس بل کو سمجھنے میں حکومت کو 12 سال لگے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے محض ایک بل لایا اور فیصلہ کیا کہ بغیر مناسب مشاورت کے امراوتی ہی راجدھانی ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کسانوں کی جیت ہے جنہوں نے دن رات جدوجہد کی۔
وائی ایس آر سی پی لیڈر وینکٹ سبا ریڈی نے امراوتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان ہزاروں کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرتا ہے جنہوں نے دارالحکومت کی تعمیر کے لیے اپنی زمین دی تھی لیکن انہیں ابھی تک مناسب معاوضہ نہیں ملا ہے۔
ریڈی نے حکومت سے سوال کیا کہ بل میں ’دارالحکومت‘ کی تعریف اور امراوتی کو ریاست کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کسانوں کے مفادات اور ان کے زیر التوا مطالبات کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا، اس بل کو جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی سرمایہ کاری کے منصوبے کو مقامی لوگوں بالخصوص کسانوں کے حقوق اور بحالی کو ترجیح دینی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ