بہار میں پھر زہریلی شراب کا قہر، موتیہاری میں لوگوں کے آنکھوں کی روشنی گئی، کئی اسپتال میں داخل
بہار میں پھر زہریلی شراب کا قہر، موتیہاری میں لوگوں کے آنکھوں کی روشنی گئی، کئی اسپتال میں داخلموتیہاری، 02 اپریل (ہ س)۔ بہار کے مشرقی چمپارن ضلع سے ایک بار پھر زہریلی شراب کا معاملہ سامنے آیا ہے جس سے انتظامیہ اور مقامی باشندوں میں تشویش بڑھ گئی
بہار میں پھر زہریلی شراب کاقہر، موتیہاری میں لوگوں کے آنکھوں کی روشنی گئی،کئی  اسپتال میں داخل


بہار میں پھر زہریلی شراب کا قہر، موتیہاری میں لوگوں کے آنکھوں کی روشنی گئی، کئی اسپتال میں داخلموتیہاری، 02 اپریل (ہ س)۔ بہار کے مشرقی چمپارن ضلع سے ایک بار پھر زہریلی شراب کا معاملہ سامنے آیا ہے جس سے انتظامیہ اور مقامی باشندوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ رگھوناتھ پور تھانہ علاقہ کے بال گنگا گاؤں میں مبینہ طور پر اسپرٹ (زہریلی شراب) پینے سے ایک شخص کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی اور کئی دیگر بیمار ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق ٹیمپو ڈرائیور چندو و لد سریش پرساد ساکن جے سنگھ پور تھانہ تُرکولیا تھانہ کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔

رگھوناتھ پور تھانہ علاقہ کے بال گنگا گاؤں کے لوہا سنگھ اور لڈو ساہ عرف جتیندر شاہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جو ایک پرائیویٹ نرسنگ ہوم میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بیمار لوہا سنگھ نے بتایا کہ اس نے گزشتہ رات زہریلی شراب پی لی جس کے بعد اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور اس کی آنکھ کی روشنی چلی گئی۔ اس کی بیوی خوشبو کماری نے بتایا کہ وہ اکثر اسے شراب پینے سے روکتی تھی لیکن وہ نہیں مانتے تھے۔ خاندان کے مالی حالات بھی بہت خراب ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس واقعے میں کئی اور لوگ بیمار پڑ گئے ہیں جو قانونی کارروائی کے خوف سے چپکے سے علاج کروا رہے ہیں۔ اس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس حرکت میں آگئی۔ رگھوناتھ پور تھانہ کی ایک ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی اور تحقیقات شروع کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ شراب بیچنے والے کی شناخت کر لی گئی ہے اور دو لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کی جارہی ہے۔

ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس یونٹ (ڈی آئی یو) اور انسداد شراب نوشی ٹاسک فورس (اے ایل ٹی ایف) کئی علاقوں میں سختی سے تلاشی مہم چلا رہی ہے، جن میں ترکولیا میں پرسونی مشہری ٹولہ بھی شامل ہے۔ ایف ایس ایل (فارنسک سائنس لیب) کی ٹیم کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تعینات کیا گیا ہے تاکہ زہریلے مواد کی تصدیق کی جا سکے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم اور ایس ڈی پی او جائے وقوعہ پر کیمپ کر رہے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) نے تحقیقات کا حکم دیا ہے اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

موتیہاری میں زہریلی شراب کے اس واقعہ نے ایک بار پھر امن و امان اور شراب بندی پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اس طرح کے معاملات کا مسلسل سامنے آنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ شراب کا غیر قانونی کاروبار ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ فی الحال انتظامیہ اس بات کا پتہ لگا رہی ہے کہ زہریلی شراب کہاں سے آئی اور اس غیر قانونی کاروبار میں کون لوگ ملوث ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande