

اندور، 02 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع تاریخی بھوج شالہ احاطہ کے تنازعہ کے معاملے میں ایم پی ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں آئندہ 6 اپریل (پیر) سے باقاعدہ سماعت ہوگی۔ جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ اس دن دوپہر ڈھائی بجے سے تمام عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کرے گی۔
دراصل، جمعرات کو ایم پی ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں بھوج شالہ تنازعہ سے منسلک عرضیوں پر سماعت ہوئی۔ اس دوران ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے وکیل وشنو شنکر جین، ونے جوشی موجود رہے، جبکہ مولانا کمال الدین ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے ایڈووکیٹ سلمان خورشید ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جڑے تھے۔ جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ بحث کے آغاز میں پہلے درخواست گزاروں کے دلائل سنے جائیں گے، جس کے بعد اعتراض کرنے والوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔
اس سے قبل گزشتہ 16 مارچ کو بھوج شالہ تنازعہ کے معاملے میں ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں سماعت ہوئی تھی۔ تب جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ نے معاملے کی اگلی سماعت 02 اپریل کو مقرر کی تھی اور کہا تھا کہ سماعت سے پہلے عدالت کے ذریعے بھوج شالہ احاطہ کا معائنہ کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں گزشتہ 28 مارچ کو جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی نے دھار پہنچ کر بھوج شالہ احاطہ کا معائنہ کیا تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہندو برادری دھار کی تاریخی بھوج شالہ کو دیوی سرسوتی کے لیے وقف واگ دیوی کا مندر مانتی ہے، جبکہ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ 11 ویں صدی کی یہ یادگار کمال مولا مسجد ہے۔ بھوج شالہ کی تاریخ تقریباً 990 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ سن 1034 عیسوی میں راجہ بھوج نے اس کی تعمیر کرائی تھی اور یہاں ماں واگ دیوی کا مجسمہ نصب کیا تھا۔ تقریباً 200 سال سے زیادہ عرصے تک بھوج شالہ کی شان و شوکت قائم رہی، لیکن 1305 عیسوی میں محمد خلجی نے بھوج شالہ پر حملہ کر کے اسے نیست و نابود کرنے کی کوشش کی۔ فی الحال یہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے ماتحت ہے۔ اے ایس آئی کے حکم کے مطابق ہندووں کو ہر منگل کو احاطے میں پوجا کرنے کی اجازت ہے، جبکہ مسلمانوں کو ہر جمعہ کو نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔
ایم پی ہائی کورٹ کے حکم پر اے ایس آئی کے ذریعے بھوج شالہ احاطہ کا سائنسی سروے بھی کیا گیا تھا، جس کا مقصد اس کی تاریخی نوعیت اور اصل ساخت کا پتہ لگانا تھا۔ اے ایس آئی بھوج شالہ کے حوالے سے اپنی سروے رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کر چکی ہے۔ رپورٹ میں احاطے کی تاریخی شکل، فنِ تعمیر اور کتبوں سے متعلق کئی بڑے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر 10 ویں سے 13 ویں صدی کے دوران راجہ بھوج اور راجہ ارجن ورمن کی جانب سے کرائی گئی تعمیرات اور ثقافتی کاموں کے ثبوت ملے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پورے احاطے میں کل 106 ستون ملے ہیں، جن پر مختلف قسم کی نقاشی اور ڈیزائن ہیں۔ اس کے علاوہ 32 کتبے بھی ہیں۔ ان کتبوں میں راجہ بھوج کے وقت لکھی گئی اور ارجن ورمن کے راج گرو مدن کی تخلیق کردہ ’پاریجلمنجری ناٹیکا‘ اور ’وجے شری‘ ناٹک کے پہلے دو ابواب کا ذکر ہے۔ مختلف پتھروں پر ایسی کئی تحریریں اور ڈرامائی حصے لکھے ہوئے ہیں۔ احاطے سے ملنے والے کچھ کتبوں میں 14 ویں صدی کے دوران مالوہ میں مسلمانوں کی آمد اور مسلم حکومت کے قیام کا تذکرہ بھی ہے۔
اس کے علاوہ اے ایس آئی کو بھوج شالہ احاطہ کی کمال مولا مسجد اور کمال مولا مقبرے میں 56 عربی اور فارسی کتبے بھی ملے ہیں۔ اے ایس آئی کی رپورٹ کے مطابق، مذکورہ کتبوں پر قرآن کی آیات لکھی ہیں، جو خدا کی صفات اور توحید پر مبنی ہیں۔ یہ کتبے دو طرح کے ہیں۔ ان میں ایک کتبہ مالوہ کے سلطان محمود شاہ اول کا ہے، جسے تاریخ میں علاؤالدین محمود شاہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جس نے ہجری 861 (57-1456 عیسوی) میں مقبرے کے احاطے میں گیلری، صحن، دروازے کا گنبد، پتھر کی جالی، کوٹھریاں، کنواں، اندرونی حصے میں ایک اونچا چبوترہ، خانقاہ، داخلہ ہال اور کنگرے جیسی ساختیں بنوائی تھیں۔ اس کتبے کو ہجری 866 (62-1461 عیسوی) میں حبی الحافظ الشیرازی المرشدی کے ذریعے بنوایا گیا تھا۔ کتبہ اے پی-01 کمال مولا مسجد کے مرکزی محراب کے آس پاس سے ملا ہے۔ کتبہ اے پی-02 منبر کے اوپر واقع ہے، جبکہ کتبہ اے پی-03 جنوبی دیوار پر ملا ہے۔ یہ تینوں قرآن کے کتبے ہیں، جو اس ڈھانچے کو اسلامی شناخت دیتے ہیں۔
اے ایس آئی کی رپورٹ کا دونوں فریقین کی جانب سے مطالعہ کیا جا چکا ہے اور اپنی طرف سے اعتراضات بھی ہائی کورٹ میں درج کرائے جا چکے ہیں۔ اب 6 اپریل سے ہونے والی باقاعدہ سماعت میں اے ایس آئی کی رپورٹ میں درج ان حقائق کو لے کر بھوج شالہ معاملے کے تاریخی اور قانونی تناظر میں مزید بحث کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مسلم فریق کی جانب سے ہائی کورٹ میں اے ایس آئی رپورٹ پر سماعت کے حوالے سے ایک عرضی سپریم کورٹ میں لگائی گئی تھی، جس پر ایک دن پہلے ہی یعنی بدھ کو سماعت ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ نے بھوج شالہ تنازعہ میں اہم حکم دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ معاملے کا حتمی فیصلہ اب ہائی کورٹ ہی کرے گی۔ اے ایس آئی کی سروے رپورٹ، ویڈیو گرافی اور فریقین کے اعتراضات پر ہائی کورٹ آخری سماعت میں غور کرے گی۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اے ایس آئی کی جانب سے تیار کی گئی سروے رپورٹ تمام فریقین کو فراہم کر دی گئی ہے۔ کئی فریقین نے اس پر اپنے اعتراضات بھی درج کرائے ہیں۔ اے ایس آئی کے ذریعے کی گئی سائٹ کی ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی سے متعلق نکات کو بھی ہائی کورٹ سنجیدگی سے دیکھے گا۔ اگر ویڈیو گرافی کی بنیاد پر کوئی نئے اعتراضات اٹھتے ہیں، تو ان پر بھی سماعت کے دوران غور کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن