ملک میں 60 دنوں کے خام تیل کے ذخائرموجود ، آٹھ ریاستوں کے لیے کمر شیل ایل پی جی کوٹہ میں 10 فیصد اضافہ
نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان، ہندوستان کے پاس اگلے 60 دنوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خام تیل کے کافی ذخائر ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں ممکنہ اتار چڑھاو¿ کے درمیان، ہندوستانی حکومت نے ملک کی توانائی کی حفاظت
ملک کے پاس 60 دنوں کے خام تیل کے ذخائرموجود ، آٹھ ریاستوں کے لیے کمر شیل ایل پی جی کوٹہ میں 10 فیصد اضافہ


نئی دہلی، 2 اپریل (ہ س)۔

مغربی ایشیا میں جاری بحران کے درمیان، ہندوستان کے پاس اگلے 60 دنوں کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خام تیل کے کافی ذخائر ہیں۔ توانائی کی عالمی منڈی میں ممکنہ اتار چڑھاو¿ کے درمیان، ہندوستانی حکومت نے ملک کی توانائی کی حفاظت کے بارے میں یہ کہتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ تمام گھریلو صارفین کو قدرتی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ پچھلے مہینے میں 3.33 لاکھ پی این جی کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔

پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے جمعرات کو مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر ایک بین وزارتی پریس بریفنگ میں ملک کے اسٹریٹجک توانائی کے ذخائر کی حیثیت سے متعلق سرکاری معلومات کا اشتراک کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریفائنریز پوری صلاحیت سے کام کر رہی ہیں اور سلفر کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شرما نے کہا، ہمارے ریٹیل آو¿ٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی اتار چڑھاو¿ کے باوجود، ایندھن کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ شرما نے کہا کہ مستحکم قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لیے، ہندوستانی حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی ہے، تیل کی مارکیٹنگ کمپنیاں اس بوجھ کا ایک حصہ اٹھا رہی ہیں۔ گھریلو صارفین کو قدرتی گیس کی فراہمی کو 100 فیصد یقینی بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، ہموار کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی مانگ کو برقرار رکھنے کے لیے، حکومت نے آٹھ ریاستوں کو تجارتی ایل پی جی سپلائی بڑھا دی ہے۔سلنڈر کوٹہ میں مزید 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت ہند ایران میں ہندوستانی شہریوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سفارت خانے کے ذریعے ان کی محفوظ نقل و حرکت میں سہولت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 1200 ہندوستانی شہریوں کو زمینی سرحدوں کے ذریعے ایران چھوڑ کر آرمینیا اور آذربائیجان پہنچنے میں مدد فراہم کی گئی ہے۔ ان میں سے 996 آرمینیا اور 204 آذربائیجان پہنچ چکے ہیں۔ مزید برآں، حالیہ دنوں میں متعدد ہندوستانی شہریوں کو ایران کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ حکومت ہند نے ہندوستانی شہریوں کی محفوظ نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے پر آرمینیا اور آذربائیجان کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔

اسیم آر مہاجن، ایڈیشنل سکریٹری (خلیجی)، وزارت امور خارجہ نے کہا کہ حکومت ہند خلیج اور مغربی ایشیا کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جس میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو سب سے زیادہ ترجیح دی جارہی ہے۔ ایک وقف کنٹرول روم کام کر رہا ہے، جبکہ مشن اور قونصل خانے 24 گھنٹے ہیلپ لائنز چلا رہے ہیں۔ وہ کمیونٹی گروپس کے ساتھ بھی مشغول ہیں اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ تال میل میں باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشن مقامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ویزا، قونصلر خدمات اور ٹرانزٹ امداد سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔ طلباء پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ مہاجن نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے تعلیمی نظام الاوقات کو جے ای ای اورنیٹ جیسے امتحانات کے لیے اسکولوں، تعلیمی بورڈز اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ساتھ تال میل قائم کر کے متاثر نہ کیا جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande