
ناسک ، 02 اپریل (ہ س) مہاراشٹر کے ناسک عصمت دری معاملے میں ملزم اشوک کھرات کو جمعرات کے روز ناسک ضلع عدالت نے دوسرے عصمت دری کیس میں 8 اپریل تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملزم کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش کرنے کے بجائے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کی گئی۔
اس سے قبل بدھ کے روز عدالت نے اشوک کھرات کو پہلے عصمت دری کیس میں 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا تھا، جس کے بعد اسے ناسک سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا۔ عوامی غصے اور حساس صورتحال کے پیش نظر ایس آئی ٹی ٹیم نے ملزم کو عدالت میں پیش کرنا خطرناک قرار دیا، جس پر تفتیشی افسر کرن کمار سوریہ ونشی کی درخواست پر عدالت نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت کی اجازت دی۔ عدالت میں اس مقصد کے لیے چار بڑی اسکرینیں نصب کی گئیں تاکہ ملزم، جج اور عدالتی کارروائی کو دیکھا جا سکے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل ایڈوکیٹ شیلندر باگڑے نے عدالت کو بتایا کہ دوسری شکایت میں ملزم نے متاثرہ خاتون کو بہلا پھسلا کر اس کے ساتھ عصمت دری کی، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ بعد ازاں اسے اسقاط حمل کے لیے کچھ گولیاں اور ہربل دوا دی گئی۔ یہ ادویات کہاں سے حاصل کی گئیں اور ان کی نوعیت کیا تھی، اس کی تفتیش ابھی باقی ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق ملزم متاثرہ خاتون کو تم ایک اپسرا ہو کہہ کر ورغلاتا تھا اور اس کا استحصال کرتا تھا۔ مزید یہ کہ وہ متاثرہ کے رشتہ داروں سے آدھار کارڈ اور پین کارڈ طلب کر رہا تھا، جس کے پیچھے ممکنہ طور پر جائیداد پر قبضے کی سازش ہونے کا شبہ ہے۔ ایس آئی ٹی اس پہلو کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے ملزم کو 7 دن کی پولیس تحویل میں دینے کی درخواست کی تھی۔
عدالت نے ملزم سے دریافت کیا کہ کیا وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، جس پر اس نے نفی میں جواب دیا۔ دوسری جانب ملزم کے وکیل سچن بھاٹے نے موقف اختیار کیا کہ پولیس گزشتہ 15 دنوں سے اسی نوعیت کے معاملات میں پوچھ گچھ کر رہی ہے اور ملزم پہلے ہی تحویل میں ہے، اس لیے مزید پولیس تحویل کی ضرورت نہیں۔
تاہم عدالت نے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اشوک کھرات کو 8 اپریل تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے