اویسی نے اے آئی یو ڈی ایف کو مسلمانوں کا خیر خواہ قرار دیا،کانگریس اور بی جے پی کو نشانہ بنایا
برپیٹا (آسام)، 02 اپریل (ہ س)۔ برپیٹا کے پاکا بیت باری اسمبلی حلقہ کے کیاکوچی میں جمعرات کوآل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کی انتخابی ریلی کو آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم ) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اوی
Assam-Elections-AIUDF-Owaisi


برپیٹا (آسام)، 02 اپریل (ہ س)۔ برپیٹا کے پاکا بیت باری اسمبلی حلقہ کے کیاکوچی میں جمعرات کوآل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کی انتخابی ریلی کو آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم ) کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے خطاب کیا۔

ایم پی اویسی نے کایاکوچی میں عوامی ریلی میں بی جے پی اور کانگریس پر سخت نکتہ چینی کی۔ اویسی نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کاگزشتہ 70 برسوں سے استحصال ہوتا آیاہے۔ ہر سیاسی پارٹی نے ملک کے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے۔ آسام میں بے دخلی کی جارہی ہے اور انکاو¿نٹر بھی ہوئے ہیں۔

اویسی نے شہریوں سے میناکشی رحمان کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے اے آئی یو ڈی ایف کے انتخابی نشان تالا اور چابی کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ کانگریس امیدوار ذاکر حسین سکدار پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اگر کانگریس امیدوار کو ووٹ دکے کر کامیاب بنایا تووہ چند دنوں میں بی جے پی کے ساتھ چائے اور ناشتہ کرتے نظر آئیں گے۔ اس لیے ہر ایک کو یہ بات واضح طور پر سمجھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی یو ڈی ایف کی جیت کو یقینی بنانے کے علاوہ مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اویسی اے آئی یو ڈی ایف کی امیدوار میناکشی رحمان کے لیے مہم چلانے کے لیے پاکا بیت باری اسمبلی حلقہ میں تھے۔ جلسہ عام میں زبردست ہجوم نظر آیا۔

اویسی نے آسام کے وزیر اعلیٰ سے ملک کے آئین کی حفاظت کے لیے کام کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اویسی نے کہا، ”اگر کوئی کسی مسلمان کو گولی مارنا چاہتا ہے تو پہلے انہیں (اویسی) گولی مارو“،کیونکہ وہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے برابر ہے۔ اویسی نے بنیادی طور پر یہ کہہ کر اے آئی یو ڈی ایف کو کلین چٹ دینے کی کوشش کی کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ نہیں ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande