
کاٹھمنڈو، 19 اپریل (ہ س)۔ نیپال میں زین-جی احتجاج کے دوران مارے گئے مظاہرین کے اہل خانہ نے اتوار کو وزیر اعظم کے دفتر سنگھ دربار کے گیٹ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرے میں تقریباً 20 شہداءکے خاندانوں کے افراد نے شرکت کی۔ شہداءکے اہل خانہ نے کابینہ کی جانب سے ماہانہ روزی الاو¿نس دینے کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر احتجاج کیا۔
جین -زی شہید پریوار کلیانکاری سماج سمیتی کے سکریٹری روشن گوتم کے مطابق مختلف وزارتوں کے چکر لگانے کے بعد انہیں وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اب صرف ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ ایک وزارت سے دوسری وزارت چکر لگاتے رہیں۔ فائل کے ساتھ بھٹکنے کے بعد، ہم نے یہاں وزیر اعظم کے دفتر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ گوتم نے کہا کہ فائل لے کر وزارتوں کے چکر لگانے کے بجائے ہم نے وزیر اعظم کے دفتر میں ہی آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزراءکی کونسل کے فیصلے کے باوجود روزی روٹی الاو¿نس کی رقم جاری کرنے کا قانونی عمل ابھی تک آگے نہیں بڑھا ہے۔
قبل ازیں، شہری ترقی کی وزارت نے 2 تاریخ تک فنڈز بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وزیر اور ان کے پرسنل سکریٹریوںکے ذریعہ ان کی کال کا جواب نہ دینے کے بعد، شہید کے اہل خانہ براہ راست وزیر اعظم کے دفتر گئے۔ شہدا کے لواحقین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلے پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے دفتر پر اپنا دھرنا جاری رکھیں گے اور اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو مزید سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد