
۔18ویں لوک سبھا کا ساتواں اجلاس اختتام پذیر، کام کی پیداواری صلاحیت 93 فیصد رہی
۔ راجیہ سبھا کا 270 واں اجلاس اختتام پذیر، کام کی پیداواری صلاحیت 109.87 فیصد رہی
نئی دہلی، 18 اپریل (ہ س)۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس ہفتہ کو دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی ہونے کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ اجلاس سیاسی طور پر کافی اتھل پتھل بھرا رہا اوراسے خصوصی نشستوں کے لئے مقررہ وقت سے آگے بڑھایا گیا تھا، جس میں انتخابی اصلاحات پر کی گئی ۔
سیشن کے دوران حکومت کی طرف سے پیش کرد ہ آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، جس میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنا اور حد بندی کے عمل کو نافذ کرنا ہے، لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ بل کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ووٹ آئے جب کہ منظوری کے لیے 352 ووٹ درکار تھے۔
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ ایوان کی پیداواری صلاحیت تقریباً 93 فیصد رہی۔ انہوں نے بتایا کہ 28 جنوری کو شروع ہونے والے اس اجلاس میں کل 31 نشستیں ہوئیں اور 151 گھنٹے 42 منٹ تک جاری رہیں۔ اجلاس کے دوران، مرکزی بجٹ 2026-27 پر تقریباً 13 گھنٹے بحث ہوئی، جس میں 63 اراکین نے حصہ لیا۔ اسپیکر نے بتایا کہ آئین (131ویں ترمیم) بل،مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے متعلق (ترمیمی) بل، اور حد بندی بل 2026 پر 21 گھنٹے 27 منٹ تک بحث ہوئی، جس میں 131 ارکان نے حصہ لیا، حالانکہ آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہو سکا۔
اجلاس کے دوران 12 حکومتی بل پیش کیے گئے جن میں سے 9 منظور کر لیے گئے۔ اس کے علاوہ، ایوان میں عوامی اہمیت کے 326 مسائل اٹھائے گئے اور قاعدہ 377 کے تحت 650 معاملات پیش کیے گئے۔ اوم برلا نے بتایا کہ سیشن کے دوران 126 ستاروں والے سوالات کے جوابات زبانی طور پر دیے گئے۔ اس کے علاوہ، پارلیمانی کمیٹیوں کی جانب سے 73 رپورٹیں پیش کی گئیں اور کل 2089 دستاویزات ایوان میں پیش کی گئیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 18 ہندوستانی زبانوں میں 181 بیانات بنائے گئے جن کا کامیابی سے ترجمہ کیا گیا۔ اجلاس کے دوران، ایوان نے اہم امور بھی اٹھائے، جن میں بائیں بازو کی انتہا پسندی پر مختصر دورانیے کی بحث، مغربی ایشیا کی صورتحال پر وزیر اعظم کا بیان اور ملک کی سائنسی کامیابیاں شامل ہیں۔
راجیہ سبھا کا 270 واں اجلاس بھی ہفتہ کوا ختتام پذیر ہو گیا۔ اختتامی موقع پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی کو کامیاب قرار دیا اور ارکان کے تعاون کی ستائش کی۔ چیئرمین نے کہا کہ پارلیمنٹ کے تین اجلاسوں میں بجٹ اجلاس سب سے اہم ہے کیونکہ اس میں ہونے والے فیصلے ملکی ترقی کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کے دوران ایوان کی مجموعی پیداواری صلاحیت 109.87 فیصد رہی اور ایوان نے 157 گھنٹے 40 منٹ تک کام کیا۔
اجلاس کا آغاز صدر جمہوریہ ہند کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث سے ہوا، جو چار دن تک جاری رہا اور اس میں 79 اراکین نے شرکت کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بحث کا جواب دیا۔ مرکزی بجٹ 2026-27 پر بھی چار دنوں میں بڑے پیمانے پر بحث کی گئی جس میں 97 اراکین نے حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ہی دو اہم وزارتوں کے کام کاج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان نے ہندوستان امریکہ دو طرفہ تجارتی معاہدے اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر وزارتی بیانات بھی سنے۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازعات اور ہندوستان پر اس کے اثرات کے بارے میں وزیراعظم کا بیان بھی نمایاں تھا۔ چیئرمین نے بتایا کہ اجلاس کے دوران 50 پرائیویٹ ممبر بل پیش کیے گئے۔ اس کے علاوہ، اراکین نے 12 علاقائی زبانوں میں 94 مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوران، راجیہ سبھا میں 117 سوالات اٹھائے گئے، 446 وقفہ صفرہوا اور 207 خصوصی ذکر کیے گئے۔ اس سیشن میں ہری ونش تیسری بار راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئے، جس پر ایوان میں موجود تمام جماعتوں نے انہیں مبارکباد دی۔ چیئرمین نے ایوان کے کام کو احسن طریقے سے چلانے میں تعاون کرنے پر تمام قائدین، اراکین اور سکریٹریٹ حکام کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی ”وندے ماترم“ کی دھن پر ملتوی کردی گئی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد