
نئی دہلی، 18 اپریل (ہ س) پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی کے بعد سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے جمہوریت کا دفاع کیا ہے اور حد بندی سے متعلق سازش کو ناکام بنایا ہے۔
ہفتہ کو کانگریس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں پرینکا گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے تین سال سے خواتین کے ریزرویشن قانون پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور حال ہی میں جلد بازی میں نوٹیفکیشن جاری کیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین ریزرویشن بل کو اس کی اصل شکل میں فوری طور پر لاگو کیا جائے۔
انہوں نے کہا، جمعہ کا دن جمہوریت کی ایک بڑی فتح ہے۔ مرکزی حکومت نے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن اپوزیشن نے متحد ہو کر اسے ناکام بنا دیا۔ یہ آئین اور ملک کی جیت ہے۔
پرینکا گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کی آڑ میں من مانی طور پر حد بندی کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور بل پاس کر کے ذات پات کی مردم شماری سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بقول، اگر یہ بل منظور ہوا تو حکومت اسے ایک کامیابی قرار دے گی، اور اگر نہیں، تو یہ اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دے گی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین سے متعلق بہت سے سنگین معاملات سے لاتعلق رہی ہے، جن میں اناو¿، ہاتھرس، خواتین کھلاڑیوں اور منی پور کے واقعات شامل ہیں۔ اب وہی حکومت خود کو خواتین کی خیر خواہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پرینکا گاندھی نے واضح کیا کہ یہ صرف خواتین کے ریزرویشن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ حد بندی اور سیاسی توازن کا بھی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایسی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی، جس سے حکومت شفافیت کے بغیر فیصلے کر سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک نے دیکھا ہے کہ جب اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو مرکز کی نریندر مودی حکومت کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اس دن کو ”یوم سیاہ“ قرار دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن اسے جمہوریت کی فتح سمجھ رہی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ ملک کی خواتین اب باشعور ہیں اور حکومت کی پی آر اور میڈیا بازی کو سمجھ رہی ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی