شیئر مارکیٹ کے اتار چڑھاو سے سرمایہ کاروں میں مایوسی، 2025-26 میں 34 لاکھ سرمایہ کاروں نے این ایس ای سے رشتہ توڑا
نئی دہلی، 18 اپریل (ہ س)۔ سال 2025-26 ملکی شیئر مارکیٹ کے فعال سرمایہ کاروں کے لیے کافی مایوس کن رہا۔ گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ عام طور پر ہر سال سرمایہ کاروں کی تعداد م
شیئر مارکیٹ کے اتار چڑھاو سے سرمایہ کاروں میں مایوسی، 2025-26 میں 34 لاکھ سرمایہ کاروں نے این ایس ای سے رشتہ توڑا


نئی دہلی، 18 اپریل (ہ س)۔ سال 2025-26 ملکی شیئر مارکیٹ کے فعال سرمایہ کاروں کے لیے کافی مایوس کن رہا۔ گزشتہ تین سالوں میں پہلی بار نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ عام طور پر ہر سال سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا تھا لیکن 2025-26 کے دوران این ایس ای کے سرمایہ کاروں کی تعداد میں 6.91 فیصد کی ریکارڈ کمی آئی ہے۔ پورے سال کے دوران این ایس ای کے فعال سرمایہ کاروں کی تعداد کم ہو کر 4.58 کروڑ ہو گئی۔ اس سے پہلے، سال 2024-25 میں این ایس ای کے فعال سرمایہ کاروں کی تعداد 4.92 کروڑ تھی۔ اس طرح ایک سال کی مدت میں این ایس ای کے تقریباً 34 لاکھ فعال سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ چھوڑ گئے۔

این ایس ای کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، این ایس ای کے فعال سرمایہ کاروں کی تعداد میں کمی میں تقریباً 26 لاکھ سرمایہ کار تین بڑے بروکنگ ہاو¿سز سے وابستہ تھے۔ ان میں سے سب سے زیادہ 9.95 لاکھ فعال سرمایہ کار زیرودھا بروکنگ کے اکاو¿نٹ سے کم ہوئے ہیں، جسے مارکیٹ لیڈر کہا جاتا ہے۔ اسی طرح 8.15 لاکھ فعال سرمایہ کاروں نے اینجل ون کے اکاو¿نٹ سے منہ موڑ لیا ہے۔ جبکہ اپسٹوکس کے 7.60 لاکھ فعال سرمایہ کار سال 2025-26 کے دوران اسٹاک مارکیٹ چھوڑ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ موتی لال اوسوال، شیئرخان، ایچ ڈی ایف سی سیکیورٹیز اور کوٹک سیکیورٹیز جیسے بڑے بروکنگ ہاو¿سز نے بھی لاکھوں فعال سرمایہ کاروں کو کھو دیا ہے۔

مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025-26 میں اسٹاک مارکیٹ مسلسل دباو¿ میں رہی۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ نے جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو برقرار رکھا۔ 2025-26 کے آخری دنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد جغرافیائی سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس تناو¿ نے عالمی معیشت پر دباو¿ ڈالا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ڈگمگانے لگا۔ اسی طرح، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے اور افراط زر میں اضافے نے بھی معیشت میں سست روی کا خدشہ پیدا کیا، جس سے فعال سرمایہ کاروں کا ایک بڑا طبقہ مارکیٹ سے نکل گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande