
ممبئی ، 18 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے ناسک میں عصمت دری کے چوتھے معاملے میں ہفتہ کے روز ضلع عدالت نے ملزم اشوک کھرات کو 30 اپریل تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے، جبکہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) اتوار کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اسے پانچویں کیس میں بھی عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔
چوتھے کیس میں اشوک کھرات کی پولیس تحویل آج ختم ہو رہی تھی، جس کے باعث ایس آئی ٹی نے اسے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔ اس دوران سرکاری وکیل نے ملزم کی مزید پولیس تحویل کی درخواست نہیں کی، جس پر جج بی این اچپورانی نے اسے 30 اپریل تک عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی ایس آئی ٹی کی جانب سے ملزم کو اتوار کے روز پانچویں کیس میں پیش کرنے کی درخواست بھی عدالت نے منظور کر لی۔
واضح رہے کہ اشوک کھرات کو ایک خاتون کی شکایت پر 17 مارچ کو سرکارواڑہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد اس کے خلاف عصمت دری اور دھوکہ دہی کے مجموعی طور پر 14 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔
اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خاتون آئی پی ایس افسر تیجسونی ساتپوتے کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ ان 14 مقدمات میں سے چار میں ملزم کو پہلے ہی عدالتی تحویل میں بھیجا جا چکا ہے۔
تحقیقات کے دوران مالی لین دین اور جائیداد کے سودوں کے پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی ٹیم بھی منی لانڈرنگ کے زاویے سے اس کیس کی جانچ کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے