
سرسا، 18 اپریل (ہ س)۔ سرسا کی رکن پارلیمنٹ کماری سیلجا نے بی جے پی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حقوق کے نام پر ملک کی جمہوریت، آئین اور وفاقی ڈھانچہ کو کمزور کرنے کی سازش رچی جارہی تھی، لیکن متحدہ اپوزیشن نے اسے بروقت ناکام بنادیا۔ ہفتہ کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں، ایم پی نے کہا کہ حکومت خواتین کے ریزرویشن کے نام پر حد بندی کا جال ب±ن رہی ہے، جو سیاسی توازن کو بگاڑ سکتی ہے اور جمہوری نظام کو اپنے حق میں جھکا سکتی ہے۔ یہ صرف خواتین کے ساتھ غداری نہیں ہے بلکہ آئین کی بنیادی روح پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو گرا ہے وہ خواتین ریزرویشن بل نہیں ہے بلکہ بی جے پی کا سازشی ڈھانچہ ہے۔ یہ ملک کے باشعور عوام اور ایک مضبوط اپوزیشن کی جیت ہے، جس نے جمہوریت کو بچانے کا کام کیا۔
ایم پی سیلجا نے مطالبہ کیا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ 2023 کے مطابق 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ مزید کوئی تاخیر یا بہانہ ملک کی خواتین کے ساتھ ناانصافی ہوگی، جسے کانگریس پارٹی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے خواتین کے احترام کے نام پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی بارہا کوشش کی ہے، لیکن نچلی سطح پر خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اب ملک کی خواتین اور نوجوان بی جے پی کے ارادوں کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں۔ آخر میں کماری سیلجا نے کہا کہ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کے مستقبل اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ بی جے پی چاہے کتنی ہی سچائی کو چھپانے کی کوشش کرے، ملک کے لوگ بیدار ہو چکے ہیں اور آج بی جے پی کا زوال شروع ہو چکا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی