
۔غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے کے دوران ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ موجود رہے
۔ کھیل کے میدان اور کھاد کے گڑھے کے لیے 600 مربع میٹر اراضی کو تجاوزات سے آزاد کرایا گیا
سنبھل، 17 اپریل (ہ س)۔ اتر پردیش میں سنبھل ضلع کے اسمولی تھانے کے علاقے میں واقع مبارک پور بند گاو¿ں میں جمعہ کے روز بھی سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ایک مسجد اور دیگر ڈھانچے کو منہدم کر دیا گیا۔ یہ 600 مربع میٹر زمین کا پلاٹ کھیل کے میدان اور کمپوسٹ پٹ(کھاد کے گڑھے) کے لیے تھا۔ اب اس زمین پر سے مبینہ غیر قانونی قبضہ ہٹا دیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ موجود تھے۔
آج صبح تقریباً 9 بجے سرکاری اہلکار جے سی بی مشینوں وغیر کے ساتھ مبارک پور گاو¿ں پہنچے۔ سب سے پہلے صبح ساڑھے نو بجے سے دوپہر ایک بجے تک مسجد کے باہر موجود پانچ دکانوں کو منہدم کیا گیا۔ اس کے بعد دوپہر 1:30 بجے مبینہ طور پر سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی غیر قانونی مسجد اور 35 فٹ اونچے مینار کو منہدم کر دیا گیا۔ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور انتظامی اہلکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
اس معاملے میں ضلع مجسٹریٹ سنبھل راجیندر پنسیا نے بتایا کہ تحصیل سنبھل کے مبارک پور بند گاو¿ں میں گاوں کے پردھان نے تین ماہ قبل شکایت کرنے کے ساتھ ہی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔تحصیلدار کی عدالت میں سماعت کی گئی اور سماعت کے بعد اپیل کے لیے 30 دن کا وقت دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر دو غیر قانونی تعمیرات تھے اور یہاں کے لوگوں سے اسے خود ہٹانے کے لئے کہا گیا تھا لیکن وہ انہیں نہیں گراسکے اور انتظامیہ سے اپیل کی ،وہ اپنے وسائل سے ہی انہیں گرائے ۔ جس کے بعد انتظامیہ نے اپنی سطح پر کارروائی کی اور غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ زمین کھیل کا میدان اور کھاد کے گڑھے کے لئے تھی، جس کی پیمائش 600 مربع میٹر تھی اور اس زمین پر سے تجاوزات ہٹا دی گئی ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے بتایا کہ انتظامیہ لینڈ بینک بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ضلع میں ریزرو اراضی اور سرکاری اراضی پرکئے گئے تمام تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے۔
مبارک پور میں سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر کا یہ معاملہ سنبھل ضلع کے مبارک پور بند گاو¿ں کا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مسجد 15 سال قبل سرکاری اراضی پر تعمیر کی گئی تھی۔ لوگوں نے آس پاس کی جگہوں پر بھی قبضہ جما رکھا تھا۔ قبل ازیں جمعرات کو مسجد کے ارد گرد سرکاری اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد سمیت تمام غیر قانونی تجاوزات کو مسمار کرنے کا عمل اصل میں 5 اپریل کو ہونا تھا۔ تاہم، بلڈوزر ڈرائیور نے مسجد کے 35 فٹ اونچے مینار کو گرانے سے انکار کر دیا اور خدشہ ظاہر کیاکہ یہ اس پر ہی گر سکتا ہے۔ جس کے بعد انتظامیہ نے لائحہ عمل مرتب کرتے ہوئے ان تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا عمل شروع کر دیا۔ گاو¿ں میں تقریباً 50 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد