
کولکاتا، 17 اپریل (ہ س)۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے پہلے ہمایوں کبیر کے مبینہ اسٹنگ ویڈیو کو لے کر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ عام جنتا انین پارٹی کے بانی ہمایوں کبیر نے کلکتہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے ویڈیو کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ جمعہ کو جسٹس سوگت بھٹاچاریہ کی بنچ کے سامنے دائر کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ یہ ویڈیو اس کی شبیہ کو خراب کرنے کی سازش کے تحت بنایا گیا اور اسے پھیلایا گیا۔ انہوں نے عدالت سے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ معاملے کی سماعت 22 اپریل کو متوقع ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 9 اپریل کو ہمایوں کبیر کا مبینہ اسٹنگ آپریشن منظر عام پر آیا تھا۔ ویڈیو میں وہ بی جے پی کے ایک لیڈر سے بات کر رہے ہیں۔ مبینہ گفتگو میں ہمایوں کبیر یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ وہ کسی بھی قیمت پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہیں۔
ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شبھیندو ادھیکاری سے بات ہوئی ہے اور انہیں مرکزی قیادت سے ملاقات کے لیے دہلی لے جانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس میں وزیر اعظم کے دفتر اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی موہن یادو کے ساتھ رابطوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مبینہ ویڈیو میں ہمایوں کبیر کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ اگر مسلم ووٹر ممتا بنرجی سے دور ہوتے ہیں ، تو ہندو ووٹر خود بخود بی جے پی کی طرفچلے جائیں گے۔
اس ویڈیو سے ریاستی سیاست میں الزامات اور جوابی الزامات کا دور تیز ہو گیاہے۔ اب سب کی نظریں معاملے کی سماعت پرمرکوز ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد