ہائی کورٹ نے کالج اساتذہ کی بطور پریزائیڈنگ آفیسر تعیناتی کا نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا
کولکاتا، 17 اپریل (ہ س) ۔کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اسسٹنٹ پروفیسروں اور اساتذہ کو پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر تعینات کرنے کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے جمعہ کو فیصلہ سنایا کہ کمیشن تسلی بخش وجوہا
Court-Halts-EC-Order-Teachers


کولکاتا، 17 اپریل (ہ س) ۔کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاستی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اسسٹنٹ پروفیسروں اور اساتذہ کو پریزائیڈنگ آفیسر کے طور پر تعینات کرنے کے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے جمعہ کو فیصلہ سنایا کہ کمیشن تسلی بخش وجوہات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔

جسٹس کرشنا راؤ نے کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسروں کو ان کے تنخواہ کے پیمانے اور ان کے عہدہ کی نوعیت پر غور کرنے کے بعد ہی انتخابی فرائض سونپے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ آخر کس وجہ سے اسسٹنٹ پروفیسروں کو پولنگ مراکز پر بھیجا جا رہا ہے، اس سلسلے میں کمیشن سے متعدد بار وضاحت طلب کی گئی لیکن کمیشن مناسب جواب دینے میں ناکام رہا۔ اس بنیاد پر عدالت نے کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا۔

یہ عرضی کالج ٹیچر روپا بندیوپادھیائے نے دائر کی تھی۔ سماعت کے دوران کمیشن نے بتایا کہ 2010 کی ہدایت کی جگہ 2023 میں ایک نیا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 26 کے تحت ڈسٹرکٹ الیکشن افسران کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کو الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کر سکتے ہیں۔

جسٹس راؤ نے اس دلیل پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایسا ہے تو اسی دفعہ کے تحت ججوں کو بھی انتخابی ڈیوٹی پر لگا دیجئے ۔ یہ مذاق کا معاملہ نہیں ہے۔ہربار کمیشن اپنی ہدایات تبدیل کر رہا ہے، لیکن کوئی واضح نوٹیفکیشن جاری نہیں کر رہا ہے۔“

عرضی گزار نے یہ بھی استدعا کی کہ کالج کے اساتذہ کو پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے اور مرکزی یا ریاستی حکومتوں کے ریزرو ملازمین کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ کمیشن نے دلیل دی کہ انتخابات میں صرف چند دن رہ گئے ہیں، عدالتی مداخلت مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم ہائی کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande