
چرانگ (آسام)، 17 اپریل (ہ س): آسام کے چرانگ ضلع میں رونیکھاتا فاریسٹ رینج آفس میں پرتشدد واقعہ کے بعد علاقے میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ رہے ہیں، حکام نے جمعہ کو بتایا۔
چاروں اضلاع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جائے وقوعہ پر پہنچے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے اور سیکورٹی انتظامات کی نگرانی کی جاسکے۔ ان کی موجودگی نے مقامی لوگوں میں اعتماد بحال کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔
پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں اب تک چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر تشدد اور آتش زنی میں حصہ لینے کا الزام ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش جاری ہے مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نومل مہتا اور دیگر افسران نے مظاہرین سے بات کی تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور ان کے خدشات کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مسلسل رابطے جاری ہیں۔
سیکورٹی فورسز علاقے میں تعینات ہیں، حالانکہ حالات قابو میں بتائے جارہے ہیں۔ حکام نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور تعاون کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ جنگلات اور پولیس نے گزشتہ جمعرات کو جنگلات کی زمین پر قبضہ کرنے کے الزام میں 25 قبائلی افراد کو حراست میں لیا تھا۔ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رونیکھاتا فاریسٹ رینج کے دفتر میں رکھا گیا تھا۔ اس کارروائی سے مشتعل ہو کر مکینوں نے صبح دفتر کا گھیراو¿ کیا اور احتجاج کیا۔ صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوگئی۔ مشتعل ہجوم نے محکمہ جنگلات کی کئی گاڑیوں اور دفتر کے احاطے کو آگ لگا دی جس سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی