
کولکاتا، 16 اپریل (ہ س): مغربی بنگال میں انتخابی بخار کے درمیان، ترنمول کانگریس نے انتخابی کمیشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈروں اسمرتی ایرانی، شبھیندو ادھیکاری اور دیگر کے خلاف انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال کو لکھے ایک خط میں پارٹی نے الزام لگایا کہ 15 اپریل کو بی جے پی لیڈروں نے ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا جس کا نام ماتری شکتی بھروسہ کارڈ ہے، جس میں خواتین کے بینک کھاتوں میں ہر ماہ تین ہزار روپے براہ راست منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے لیے فارم بھی مختلف مقامات پر تقسیم کیے جا رہے تھے۔
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلانات اور فارم کی تقسیم انتخابی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پارٹی کے مطابق، خواتین کو اس اسکیم کے تحت فارم بھرنے کا لالچ دیا جا رہا ہے اور انہیں نقد رقم یا براہ راست بینک ٹرانسفر کے ذریعے مالی فوائد دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔
پارٹی نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ اس پورے عمل کا وقت، طریقہ اور نوعیت ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی سادہ یا انسان دوست اقدام نہیں ہے، بلکہ انتخابات کے قریب ووٹروں کو متاثر کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بدھ کو سابق مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کولکاتا میں موجود تھیں، جہاں انہوں نے خواتین میں 'ماتری شکتی بھروسہ کارڈ' بھی تقسیم کیا۔
ترنمول کانگریس نے الزام لگایا کہ اس طرح کی سرگرمیاں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی بنیادی روح کے خلاف ہیں اور ووٹروں کے آزادانہ انتخاب کو متاثر کرنے کے علاوہ انتخابی میدان میں لیول پلیئنگ فیلڈ کو خراب کرتی ہیں۔
پارٹی نے اسے عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 123 کے تحت کرپٹ پریکٹس اور تعزیرات ہند 2023 کی دفعہ 61(2)، 173 اور 174 کے تحت قابل سزا جرم قرار دیا ہے۔
ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمرتی ایرانی، شوبھندو ادھیکاری اور دیگر بی جے پی لیڈروں کو وجہ بتاو¿ نوٹس جاری کیا جائے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر سخت کارروائی کی جائے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی