
واشنگٹن/اسلام آباد/تہران، 16 اپریل (ہ س)۔ امریکہ آج دنیا کے سامنے ایران جنگ پر اپنے اگلے اقدامات کا اعلان کر سکتا ہے۔ پینٹاگون میں ہندوستانی وقت کے مطابق آج شام ہونے والی اہم پریس کانفرنس میں امریکہ اپنے مستقبل کے ارادوں کے حوالے سے عالمی برادری کے سامنے چونکا دینے والا اعلان کر سکتا ہے۔ اس دوران پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان دوسرے دور کی امن بات چیت کے لیے متعلقہ فریقین سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی جنگ کے جلد ختم ہونے کے اشارے دیے ہیں۔
سی بی ایس نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے بتایا کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین جمعرات کو ایران جنگ پر ایک پریس کانفرنس کریں گے۔ محکمے کی جانب سے ایکس پر کیے گئے اعلان کے مطابق، اس کے صبح 8 بجے (مشرقی وقت) یعنی ہندوستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہونے کی امید ہے۔ ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے درمیان پینٹاگون میں ہونے والی اس پریس کانفرنس کو بے حد اہم مانا جا رہا ہے۔
اس دوران ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں پاکستان نے شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کے آرمی چیف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایرانی حکام کے ساتھ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کے ایک نئے دور کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے سپہ سالار عاصم منیر بدھ کو تہران پہنچے ہیں۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری رہنے کے حوالے سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی بات چیت غالباً دوبارہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگی۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پرامید نظر آئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ تنازعہ ختم ہونے کے بہت قریب ہے۔ انہوں نے اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اشارہ دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات کا نیا دور جلد ہی شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایرانی حکمران امریکی فوج کے اس دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں کہ اس نے سمندر کے راستے ایران میں ہونے والی اقتصادی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔ ایران نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی جاری رہی، تو وہ مشرقِ وسطیٰ کی ایک اور اہم آبی گزرگاہ میں آمد و رفت کو روک دے گا۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے جمعرات کی علی الصبح جاری بیان میں کہا گیا کہ شریف نے ولی عہد کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری پاکستان کی کوششوں سے آگاہ کیا اور انہیں اسلام آباد کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ یہ ملاقات دو گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی۔ شریف کے ساتھ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ایرانی رہنماوں سے بات چیت کے لیے تہران بھیجا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن