ترکیہ کے اسکول میں فائرنگ، پانچ مزید زخمیوں نے دم توڑا، اب تک 9 ہلاک
انقرہ، 16 اپریل (ہ س)۔ ترکیہ کے جنوبی حصے میں واقع ایک مڈل اسکول میں بدھ کے روز ہونے والی فائرنگ میں زخمی ہونے والے 20 افراد میں سے مزید پانچ افراد نے دم توڑ دیا۔ اس واقعے میں چار افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔ زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویشنا
آئیسیل کیلک مڈل اسکول۔ اسی اسکول میں 13 سالہ نوجوان نے تابڑ توڑ فائرنگ کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ فوٹو: ڈیلی صباح


انقرہ، 16 اپریل (ہ س)۔ ترکیہ کے جنوبی حصے میں واقع ایک مڈل اسکول میں بدھ کے روز ہونے والی فائرنگ میں زخمی ہونے والے 20 افراد میں سے مزید پانچ افراد نے دم توڑ دیا۔ اس واقعے میں چار افراد کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔ زخمیوں میں سے چھ کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ معلومات بدھ کو وزیرِ داخلہ مصطفیٰ سفٹسی نے دی۔

مصطفیٰ سفٹسی نے قہرمان مرعش شہر سے جاری بیان میں کہا، ’’ہمیں یہ بتاتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ نو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں سے چھ افراد اس وقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں ہیں۔ ان میں سے تین کی حالت حد درجہ تشویشناک ہے۔‘‘ حکام نے بتایا کہ اونیکی شوبات ضلع کے آئیسیل کیلک مڈل اسکول میں تقریباً 13 سال کے ایک طالب علم نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس واقعے سے ٹھیک ایک دن پہلے ایک اور اسکول میں ایک حملہ آور نے 16 افراد کو زخمی کر دیا تھا اور پھر خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔

قہرمان مرعش کے گورنر مکرم انلوئر نے بتایا کہ اس تازہ حملے میں ایک ٹیچر اور تین طلباء کی موت ہو گئی۔ اس واقعے کے دوران حملہ آور کی بھی موت ہو گئی۔ انلوئر نے صحافیوں کو بتایا، ’’ایک طالب علم اپنے بیگ میں بندوقیں لے کر اسکول آیا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ بندوقیں اس کے والد کی تھیں۔ وہ دو کلاس رومز میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس سے کئی لوگ زخمی ہوگئے اور کچھ کی موت ہو گئی۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور نے پانچ بندوقوں اور سات میگزین کا استعمال کیا۔ انلوئر نے بتایا کہ حملہ آور آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کے والد پولیس افسر ہیں جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ منگل کو شانلی عرفا صوبے کے سیویرک ضلع میں ایک سابق طالب علم نے اپنے پرانے ہائی اسکول میں شاٹ گن سے فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں 16 لوگ زخمی ہوئے اور پولیس کے پہنچنے پر اس نے خودکشی کر لی۔

صدر رجب طیب اردگان نے پارلیمنٹ میں وعدہ کیا کہ اسکول میں فائرنگ کے واقعے کے سلسلے میں جن لوگوں کی لاپرواہی یا غلطی پائی جائے گی، ان سے یقینی طور پر جواب طلب کیا جائے گا۔ اردگان نے بتایا کہ منگل کے حملے کے بعد پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے اور چار افسران کو ان کی ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اسکول کو چار دنوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ترکیہ میں اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات بہت کم ہوتے تھے۔ مئی 2024 میں استنبول میں ایک طالب علم نے اسکول سے نکالے جانے کے پانچ ماہ بعد ایک نجی ہائی اسکول کے پرنسپل کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande