دس کروڑ روپے کے سائبر فراڈ کیس میں تین ملزمان گرفتار
۔لکھنؤ کا کپل فرضی لین دین کے ذریعے رقم کو نقدی میں تبدیل کرتا تھا ۔بھدوہی، موہن لال گنج اور بہرائچ سے شاطر ٹھگ گرفتار بھدوہی، 16 اپریل (ہ س)۔ اترپردیش کی بھدوہی پولیس نے جمعرات کو سائبر فراڈ کے ایک بڑےمعاملے کا پردہ فاش کیا۔ سرکاری اسکیموں اور
EAST-DISTRICT-CYBER-FRAUD-SYND


۔لکھنؤ کا کپل فرضی لین دین کے ذریعے رقم کو نقدی میں تبدیل کرتا تھا

۔بھدوہی، موہن لال گنج اور بہرائچ سے شاطر ٹھگ گرفتار

بھدوہی، 16 اپریل (ہ س)۔ اترپردیش کی بھدوہی پولیس نے جمعرات کو سائبر فراڈ کے ایک بڑےمعاملے کا پردہ فاش کیا۔ سرکاری اسکیموں اور قرضوں کی آڑ میں معصوم لوگوں کو لالچ دے کر تقریباً 10 کروڑ روپئے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ پولیس نے جمعرات کو تین شاطر سائبر ٹھگوں کو گرفتار کیا ہے ۔

بھدوہی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھینو تیاگی اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شبھم اگروال نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران، ملزمین نے تقریباً 10 لاکھ روپے نکالے اور اسے آپس میں تقسیم کر لیا، جس سے سائبر فراڈ کا کل اعداد و شمار تقریباً 10 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب گیان پور تھانہ میں بالی پور کے رہنے والے امن کمار بند نے شکایت درج کرائی جس میں الزام لگایا گیا کہ ملزم نے اس کے اور اس کی بہن کے نام پر بینک اکاو¿نٹس کھولے اور ان کے اے ٹی ایم کارڈ، پاس بک اور منسلک موبائل سم کارڈ اپنے قبضے میں لے لیے۔ جب اسے شک ہوا اور کاغذات واپس مانگے تو ملزم نے اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد پولیس نے شکایت درج کر کے تفتیش شروع کی، جس میں الزامات کو سچ ثابت ہوا۔

جمعرات کو ایک مخبر کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس نے گوپی گنج اووربرج کے شمالی کنارے کے پلر نمبر 52کے سامنے ملزم انشول مشرا (20) ساکن کنول چکسیکھاری، گیان پور تھانہ، محمد شعیب (19) ساکن یادو پور مہاسی سبلا پور، بہرائچ اور کپل راوت (19) ساکن کو دھرمنگت کھیڑا، تھانہ موہن لال گنج لکھنو سے گرفتا کر لیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق، پولیس کی تفتیش میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ ملزمان نے سرکاری اسکیموں اور سستے قرضوں کے بہانے لوگوں کو بینک اکاو¿نٹس کھولنے کا لالچ دیا اور پھر ان اکاؤنٹس کو سائبر فراڈ کے لیے استعمال کیا۔ اس گروہ میں شامل سائبر جرائم پیشہ افراد واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور انسٹاگرام کے ذریعے ملک بھر کے سائبر جرائم پیشہ افراد سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے سرمایہ کاری، خریداری اور کریڈٹ کارڈ اسکیموں کی آڑ میں جعلی اے پی کے فائلیں بھیج کر لوگوں کو دھوکہ دیا، اور پھر ان اکاو¿نٹس میں رقم مانگی۔

پولیس پوچھ گچھ کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ بھدوہی ضلع اور آس پاس کے اضلاع کے دیہی اور معصوم لوگوں کو سرکاری اسکیموں اور سستے قرضوں کا لالچ دے کر ان کے نام پر بینک کھاتہ کھولتے تھے۔ اکاؤنٹس کھولنے کے بعد، انہوں نے اکاؤنٹس سے منسلک اے ٹی ایم کارڈ، پاس بک، اور موبائل نمبر حاصل کیے، تاکہ ملک میں کہیں سے بھی سائبر فراڈ کے ذریعے جمع کی گئی رقم براہ راست ان اکاؤنٹس میں منتقل کی جاسکے۔ گروہ کے ارکان کی تلاشی کے دوران کئی موبائل فون اور مختلف سم کارڈز برآمد ہوئے جن میں سے زیادہ تر ان کے خاندان کے افراد جیسے کہ ان کے والد یا بھائیوں کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔

گرفتاری کرنے والی پولیس کی دو ٹیموںمیں سی او چمن سنگھ چاوڑا (کرائم)، سب انسپکٹر راج کمار پانڈے، ناگیندر یادو، برجیش سنگھ سوریہ ونشی، دھیریندر کمار سریواستو، منو سنگھ، دیپک یادو، ہمانشو سنگھ، سنیل پال، سنیل کنوجیا اور پرتیوش پاٹھک شامل تھے۔ انسپکٹر سنتوش کمار سریواستو، دیوآنند سنگھ، کنہیا کمار سنگھ، سدانند، پربھات چندر ترپاٹھی، مان سنگھ یادو، اور گنیش کوشل بھی شامل تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande