
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س)۔ اس سال کے شروع میں پروفیشنل ریسلنگ لیگ (پی ڈبلیو ایل ) کی کامیاب واپسی کے اثرات اب بین الاقوامی سطح پر واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ سیزن 5 میں حصہ لینے والے کئی ہندوستانی اور غیر ملکی پہلوانوں نے بڑے عالمی مقابلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
جنوری میں نوئیڈا انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ پی ڈبلیو ایل سیزن 5 میں عالمی سطح کے پہلوانوں کے ساتھ ہندوستان کے قائم اور ابھرتے ہوئے ہنر مند کھلاڑیوں نے حصہ لیا، جس سے یہ ایک اعلیٰ مسابقتی پلیٹ فارم کے طور پر مزید مضبوط ہوا۔ لیگ کا اثر اب بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کی کاکردگی پر نظر آرہا ہے، جو مضبوط گھریلو مسابقتی ڈھانچے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
اس میں سرفہرست سوجیت کلکل رہے ہیں، جو مردوں کے 65 کلوگرام زمرے میں دنیا کے ٹاپ ریسلرز میں شامل ہو چکے ہیں۔ فی الحال ایران کے عالمی چیمپئن اور اولمپک میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے رحمن اموزاد کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر موجود سجیت نے پی ڈبلیو ایل سیزن 5 میں دہلی دنگل واریئرز کی نمائندگی کی، جہاں انہوں نے سات میں سے چھ مقابلے جیت کر رنر اپ کا مقام حاصل کیا۔
لیگ کے بعد سے، سجیت نے مسلسل تین بین الاقوامی سونے کے تمغے جیتے ، جن میں زاگریب اور محمد مالو رینکنگ سیریز کے خطاب کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے شروع میں کرغزستان کے بشکیک میںایشین چیمپئن شپ بھی شامل ہے۔
خواتین کے 53 کلوگرام زمرے میں میناکشی گویت بھی پی ڈبلیو ایل سیزن 5 میں بھی ایک بڑی کامیابی کے طور پر ابھری ہیں ۔ پنجاب رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے، انہوں نے لیگ میں اپنے تینوں مقابلے جیتے اور پھر قومی ٹرائلز میں اننت پنگھل کو ہرا کر ہندوستانی ٹیم میں جگہ حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے بشکیک میں ہونے والے محمد مالو ٹورنامنٹ اور ایشین چیمپئن شپ دونوں میں چاندی کے تمغے جیت کر اپنا بین الاقوامی مقام مضبوط کیا۔
دیگر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں اولمپک چاندی کا تمغہ جیتنے والے امن سہراوت (مردوں کے 61 کلوگرام) شامل ہیں، جنہوں نے ٹائیگرز آف ممبئی ڈینگلز کے ساتھ کھیلتے ہوئے زاگریب اور بشکیک میںچاندی کے تمغے جیتے، جب کہ دنیش دھنکھڑ (مردوں کے 125 کلوگرام) نے پنجاب رائلز کے لیے دونوں مقابلوں میں کانسے کے تمغے جیتے۔
ہریانہ تھنڈرس کی نیہا سنگوان نے بھی محمد مالو میں چاندی اور بشکیک میں کانسے کا تمغہ جیت کر متاثر کیا۔ سب سے زیادہ حوصلہ افزا کارکردگی ابھرتے ہوئے ہندوستانی پہلوان ابھیمنیو (مردوں کے 70 کلوگرام) کی ہے۔ 24 سالہ سی آئی ایس ایف کانسٹیبل نے، جس نے لیگ میں یوپی ڈومینیٹرز کی نمائندگی کی، نے بشکیک میں فائنل میں منگولیا کے تجربہ کار اور سابق ایشین گیمز چیمپئن تومور-اوچیرین تلگا کو شکست دے کر سونے کا تمغہ جیتا۔
لیگ کا اثر بین الاقوامی اسٹارز پر بھی دیکھنے کو ملا۔ کینیڈا کی عالمی تمغہ جیتنے والی کارلا گوڈینز گونزالیز نے دہلی دنگل واریئرز کی نمائندگی کرتے ہوئے زاگریب میں چاندی کا تمغہ جیتا جبکہ جاپان کے لیجنڈری ریسلر یوئی سوساکی ، جوخطاب جیتنے والی ہریانہ تھنڈرز ٹیم کا حصہ تھیں،نے بشکیک میں ایک اور ایشیائی خطاب اپنے نام کیا۔
اس سال کے آخر میں ہونے والے ایشین گیمز اور عالمی چیمپئن شپ کو دیکھتے ہوئے پی ڈبلیو ایل سیزن 5 پہلوانوں، خاص طور پر ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگیملک کے لیے ایک بہت مثبت اشارہ ہے۔
پی دبلیو ایل سیزن 5 سے ابھرتے ہوئے ایتھلیٹس کی مسلسل کامیابی ثابت کرتی ہے کہ لیگ ہندوستان کے ریسلنگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور ایتھلیٹس کو اعلیٰ سطح کے مقابلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد