ریزرویشن کو خواتین کا حق قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، اسے روکے رکھنے کے گناہ سے پاک ہونے کا موقع
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو لوک سبھا میں تمام پارٹیوںسے حکومت کی طرف سے پیش کردہ تین بلوں کو متفقہ طور پر منظور کرانے کی اپیل کی تاکہ اس سے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین
PM-MODI-LOKSABHA-WOMEN-RESERVA


نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو لوک سبھا میں تمام پارٹیوںسے حکومت کی طرف سے پیش کردہ تین بلوں کو متفقہ طور پر منظور کرانے کی اپیل کی تاکہ اس سے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی ریزرویشن دہائیوں سے روکا جاتا رہا ہے۔ اب اس کا کفارہ کرنے کا وقت ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار ہے اور ہمیں اس قرض کا اعتراف کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو لوک سبھا میں حد بندی اور اس کے بعد خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ سے متعلق تین بلوں پر بحث میں حصہ لیا۔ بحث کل تک جاری رہے گی اور آخر میں وزیر داخلہ اس کاجواب دیں گے۔ ان بلوں میں سے ایک آئینی ترمیمی بل بھی ہے، جس کی منظوری کے لیے حکومت کو دو تہائی اکثریت درکار ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے، ایک طرف وزیر اعظم نے سیاسی بتانے کے حزب اختلاف کے الزامات کی تردید کی تو دوسری طرف واضح کیا کہ حد بندی کسی بھی ریاست کے ساتھ تفریق یا غیر منصفانہ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ، لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ ایک ضرورت ہے ۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کی تعمیر کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت سے قانون سازی کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ اسے سیاسی ترازو سے نہیں تولا جانا چاہیے۔ یہ قومی مفاد میں فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا، ”ہم اس تکبر میں نہ رہیں کہ ہم ملک کی ناری شکتی( خواتین کی طاقت) کو کچھ دے رہے ہیں... جی نہیں! ان کا حق ہے، ہم نے اسے کئی دہائیوں سے روکا ہواہے۔ آج اس کا کفارہ کرکے اس گناہ سے چھٹکارا پانے کا موقع ہے۔“

مودی نے یقین دلایا کہ حکومت کی نیت صاف ہے اور ہمیں الفاظ سے کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا،”آج میں اس ایوان میں بڑی ذمہ داری کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہخواہ وہ جنوب ہو، شمال ہو، مشرق ہو، مغرب ہو، چھوٹی ریاستیں ہوں یا بڑی ریاستیں... یہ فیصلہ سازی کا عمل کسی کے ساتھ امتیازی سلوک یا ناانصافی نہیں کرے گا، ماضی میں جو حکومت رہی، جن کے دور میں جو حد بندی ہوئی، اس کے تناسب میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور اضافہ بھی اسی تناسب میں ہوگا۔ اگر گارنٹی چاہیے تو میں گارنٹی دیتا ہوں، وعدہ چاہیے تو وعدہ کرتا ہوں....کیونکہ اگر نیت صاف ہے، تو الفاظ سے کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔“

وزیراعظم نے اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کی کہ حکومت خواتین ریزرویشن کے نام پر سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے حکومت کا مقصد سیاسی نہیں ہے۔ ہم خواتین کو ان کے حقوق دے رہے ہیں۔ 2023 میں، اسی ایوان نے متفقہ طور پر ناری شکتی وندن ایکٹ منظور کیا تھا۔ اب ہمیں تکنیکی بہنانے کرکے اسے روکنا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا،”جب ہم 2023 میں اس پر بحث کر رہے تھے، تب لوگ کہہ رہے تھے، جلدی کرو۔ 2024 میں ممکن نہیں ہو سکا کیونکہ اتنے کم وقت میں ممکن نہیں سکتا۔ اب ہمارے پاس 2029 میں وقت ہے۔اگر 2029میں بھی نہیں کریں گے تو حالات کیا ہوں گے ، ہم تصور کر سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم زیادہ تاخیر نہ کریں ۔“

انہوں نے مزید کہا، ” ملک کی زندگی میں کچھ اہم لمحات آتے ہیں اوراس وقت کے معاشرے کا مزاج اور قیادت اس لمحے کوکیپچر کرکے اسے قومی خزانہ بنادیتی ہے،ایک مضبوط میراث تیار کرتی ہے۔ یہ ہندوستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک ایسا ہی لمحہ ہے۔“

وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کی مخالفت کرنے والوں کو ہمیشہ اس کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 2024 کے انتخابات میں ایسا نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو سب نے متفقہ طور پر پاس کیا۔

انہوں نے کہا،”اگر ہم سب ساتھ آ جاتے ہیںتو تاریخ گواہ ہے کہ یہ کسی ایک شخص کے سیاسی حق میں نہیں جائے گا۔یہ ملک کی جمہوریت کے حق میں جائے گا، قوم کی اجتماعی فیصلہ سازی کے حق میں جائے گااور ہم سب اس شان کے حقدار ہوں گے، نہ تو ٹریژری بنچ اس کے حقدار ہوں گے اور نہ ہی مودی۔ لہٰذا جس کسی کو بھی اس سے سیاسی بو آ رہی ہے ، وہ گزشتہ0 3 برسوں کے خود کے نتائج کو دیکھ لے۔ اسے سیاسی رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔“

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ خواتین نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں اس قرض کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ملک میں 650 سے زیادہ ضلع پنچایتیں ہیں۔ تقریباً پونے تین سو خواتین ان کی قیادت کرتی ہیں۔ ان پر ایک کابینہ کے وزیر سے زیادہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ تقریباً 6,700 بلاک پنچایتوں میں سے 2,700 سے زیادہ کی قیادت خواتین کر رہی ہیں۔ آج، خواتین ملک بھر کے 900 سے زیادہ شہروں میں شہری بلدیاتی اداروں کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande