
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س): وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو دہلی میں آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے ساتھ وسیع دو طرفہ بات چیت کی، جس کے دوران دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اختراع، سبز اور صاف ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافتی تبادلے، نقل و حرکت اور عوام سے عوام کے روابط سمیت دو طرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق، میٹنگ نے دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت، اختراع، مہارت کی ترقی اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں کل 15 ٹھوس نتائج برآمد کیے ہیں۔ دونوں لیڈروں نے خاص طور پر ہائی ٹکنالوجی تعاون کو ہندوستان-آسٹریا شراکت داری کے مرکزی ستون کے طور پر تسلیم کیا۔ وزیراعظم نے چانسلر کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔
آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹاکر کے دورے کے حوالے سے خصوصی بریفنگ دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے سکریٹری (مغرب) سبی جارج نے کہا کہ آج حیدرآباد ہاو¿س میں انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان چھ اہم معاہدوں، ایم او یوز اور لیٹرز آف انٹینٹ کا تبادلہ ہوا۔ ان میں آڈیو ویژول کو پروڈکشن، فوڈ سیفٹی اور اسٹینڈرڈز پر تعاون، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے فاسٹ ٹریک میکنزم کا قیام اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ کے معاہدے شامل ہیں۔ مزید برآں، اقوام متحدہ کے پیس کیپنگ سینٹر آف انڈیا اور آسٹرین آرمڈ فورسز انٹرنیشنل سینٹر کے درمیان شراکت داری کا اعلان کیا گیا۔
دونوں فریقوں نے 2026 میں ویانا میں ایک مشترکہ خلائی صنعت سیمینار منعقد کرنے اور ورکنگ ہالیڈے پروگرام شروع کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔ یہ اقدام نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے درمیان رابطے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
سیکرٹری (مغرب) نے کہا کہ بات چیت کے دوران علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے سرحد پار دہشت گردی سمیت ہر قسم کی دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور مل کر اس کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کی بھی مذمت کی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ گروپ معلومات کے تبادلے، صلاحیت کی تعمیر، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کو روکنے میں تعاون کرے گا۔ رہنماو¿ں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد کے لیے بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کرنے اور اقوام متحدہ اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے فورمز میں فعال تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بات چیت کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چانسلر اسٹاکر کا دورہ ہندوستان-آسٹریا تعلقات کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیوں میں آسٹریا کے کسی چانسلر کا یہ پہلا دورہ ہندوستان ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعاون کی علامت ہے۔ انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یورپ سے باہر اپنے پہلے دورے کے لیے ہندوستان کا انتخاب کرنا آسٹریا کی ہندوستان سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
چانسلر اسٹاکر نے بھی ہندوستان کے بارے میں اپنے مثبت نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان 75 سال سے زیادہ پرانی دوستی کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے موجودہ دور میں مشترکہ اقدار پر مبنی شراکت داری اور بھی اہم ہو گئی ہے۔
دونوں رہنماو¿ں نے ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اس کے نفاذ سے تجارت، مینوفیکچرنگ، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع کھلیں گے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے۔
قابل ذکر ہے کہ چانسلر اسٹاکر 14 سے 17 اپریل تک ہندوستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ چانسلر بننے کے بعد یہ ان کا ایشیا کا پہلا دورہ ہے، اور اسے ہندوستان-آسٹریا تعلقات کو نئی سمت دینے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی