
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س)۔ آپریشن سائبر ہاک کے تحت ضلع مشرقی کی اسپیشل اسٹاف ٹیم نے سائبر فراڈ کے ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جو جعلی بینک اکاؤنٹس (میول اکاؤنٹس) کے ذریعے دھوکہ دہی کی رقوم کی منتقلی کر رہا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں بینک ملازم سمیت تین ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس گینگ کے غیر ملکی ہینڈلرز بالخصوص چینی ٹیلی گرام چینلز سے روابط ہیں۔
مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجیو کمار نے جمعرات کو بتایا کہ کیس کی شروعات این سی آر پی پورٹل پر درج شکایت کے ساتھ ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ بریلی کے رہائشی امن بابو موریہ سے 22 فروری کو 10ہزار روپے کی دھوکہ دہی کی گئی تھی۔ تحقیقات کے دوران، پولیس کو میور وہار فیز-1 میں ایک بینک میں ایک اکاونٹ ملا، جو کنسٹرکشن رائل انٹرپرائز کے نام سے کھولا گیا تھا۔ یہ اکاو¿نٹ شوکین نامی شخص کے نام پر کھولا گیا تھا۔ مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ اکاوٌنٹ سائبر فراڈ کی آٹھ مختلف شکایات سے منسلک تھا۔ اس کے بعد پانڈو نگر پولس اسٹیشن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق پولیس نے پہلے کھاتہ دار شوکین کو گرفتار کیا۔ دوران تفتیش اس نے انکشاف کیا کہ اس کا بھتیجا شاہ رخ عرف جوجو اسے اس کام میں لے کر آیا تھا۔ اس کے بعد شاہ رخ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پوچھ گچھ کے دوران شاہ رخ نے انکشاف کیا کہ ایک بینک ملازم نے میول اکاؤنٹ کھولنے میں مدد کی تھی۔ پولیس نے چھاپہ مار کر سٹی یونین بینک کے ریلیشن شپ مینیجر فرانشو کمار (23) کو گرفتار کر لیا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے رقم کے لالچ میں جعلی اکاؤنٹس کھولنے میں مدد کی۔
پولیس افسر کے مطابق موبائل فون کی فارنسک جانچ میں بھی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ ملزم کے فون پر غیر ملکی ہینڈلرز سے منسلک ٹیلی گرام چینل کا پتہ چلا۔ ان ہینڈلرز نے ٹیلی گرام کے ذریعے جعلی اکاو¿نٹ کی معلومات حاصل کیں اور فراڈ شدہ فنڈز کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کیا۔ ملزم کے فون سے اسکرین ریکارڈنگ بھی ملی ہے جس میں چینی باشندے کے ساتھ ویڈیو کال دکھائی گئی ہے۔
ملزمان سے پوچھ گچھ اور تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ گینگ کے ارکان نے اے پی کے پر مبنی ایس ایم ایس فارورڈر ایپس انسٹال کیں، جو براہ راست غیر ملکی ہینڈلرز کو او ٹی پی پیغامات بھیجتی تھیں۔ اس سے انہیں بینک اکاؤنٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور فوری طور پر رقوم کی منتقلی کی اجازت مل گئی۔ پولیس کے مطابق یہ گینگ انتہائی منظم طریقے سے کام کرتا تھا۔پہلے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے، پھر ان کی تفصیلات غیر ملکی ہینڈلرز کو بھیجی گئیں، اور فراڈ کی گئی رقوم کو تیزی سے مختلف اکاو¿نٹس کے درمیان منتقل کر کے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کر دیا گیا۔ پولیس اب اس بین الاقوامی نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو تلاش کر رہی ہے اور غیر ملکی ماسٹر مائنڈ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد