
امراوتی، 16 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے پرتواڑا میں نوجوان لڑکیوں کے مبینہ جنسی استحصال اور فحش ویڈیوز وائرل ہونے کے سنگین معاملے نے ریاست بھر میں سنسنی پھیلا دی ہے، جس کے بعد ریاستی اقلیتی کمیشن نے اس کیس کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی ٹیم کو امراوتی روانہ کیا ہے۔اس حساس معاملے کے پیش نظر کمیشن کی ٹیم نے مقامی پولیس انتظامیہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے جانچ کی مکمل تفصیلات حاصل کیں۔ اس دوران کمیشن کے اراکین نے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ وشال آنند سے ملاقات کر کے اب تک کی کارروائی، دستیاب شواہد، جانچ کی سمت اور آئندہ کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔کمیشن نے واضح کیا کہ اس کیس کی تفتیش تیز رفتاری اور مکمل غیر جانبداری کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ ٹیم کی قیادت کرنے والے رکن مشتاق خان پٹھان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور کسی بھی ملزم کو بچنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کو انصاف دلانا اولین ترجیح ہے اور ان کی حفاظت و رازداری کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس کی جانب سے تکنیکی شواہد، ڈیجیٹل ڈیٹا اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کا عمل جاری ہے، جبکہ تفتیش کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے بھی انتظامیہ کے ساتھ تال میل رکھتے ہوئے کیس کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جس سے کارروائی مزید سخت ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔دریں اثنا، خواتین و اطفال بہبود محکمہ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ لڑکیوں کو ضروری مدد، تحفظ اور کونسلنگ فراہم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ذہنی صدمے سے دوچار متاثرین کے لیے خصوصی نفسیاتی رہنمائی بے حد ضروری ہے۔اس واقعے کے بعد امراوتی ضلع میں قانون و انتظام کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کر کے متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔مجموعی طور پر ریاستی اقلیتی کمیشن کی مداخلت کے بعد اس کیس کی جانچ کو نئی سمت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں پولیس اور انتظامیہ کی کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے