نانڈیڑ میں پانی بھرے گڑھے میں ڈوب کرچار بچوں کی موت
نانڈیڑ ، 16 اپریل (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے نانڈیڑ شہر میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں جمعرات دوپہر دیگلور ناکہ کے اسلام پورہ علاقے میں پانی سے بھرے ایک گڑھے میں ڈوب کر چار اسکولی بچوں کی موت ہو گئی، جس کے بعد پورے شہر میں سوگ کی فضا پھیل
Accident Nanded Children Drowning


نانڈیڑ ، 16 اپریل (ہ س) ۔ مہاراشٹر کے نانڈیڑ شہر میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں جمعرات دوپہر دیگلور ناکہ کے اسلام پورہ علاقے میں پانی سے بھرے ایک گڑھے میں ڈوب کر چار اسکولی بچوں کی موت ہو گئی، جس کے بعد پورے شہر میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ تقریباً 12 بجے دوپہر پیش آیا، جب بچے اسکول سے واپس اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے۔ ہارون باغ علاقے کے قریب ایک بڑے گڑھے میں بارش یا نالے کا پانی جمع تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ شدید گرمی یا کھیل کے دوران بچے اس پانی میں اتر گئے، تاہم گہرائی کا اندازہ نہ ہونے کے باعث چاروں بچے ڈوب گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد بڑی تعداد میں موقع پر پہنچ گئے۔ گڑھے کے کنارے بچوں کے اسکولی یونیفارم، جوتے اور چپلیں ملنے سے حادثے کی شدت کا اندازہ ہوا۔ فوری طور پر تلاش مہم شروع کی گئی اور بچوں کو باہر نکالا گیا، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔پولیس کے مطابق جاں بحق بچوں کی شناخت محمد عدنان محمد فیروز (10)، محمد علی محمد ادریس (13)، سید عرفان سید فیروز (13) اور ایان ابراہیم باغوان (11) کے طور پر ہوئی ہے، جو سبھی اسلام پورہ علاقے کے رہائشی تھے۔اطلاع ملتے ہی اٹوارہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم موقع پر پہنچی اور چاروں نعشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پرشانت شندے نے بھی موقع کا دورہ کیا اور معاملے کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا۔ابتدائی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ یہ گڑھا چند ماہ قبل میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نالے کے کام کے لیے ایک نجی کنٹریکٹر کے ذریعے کھودا گیا تھا، جسے بغیر کسی حفاظتی انتظام کے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ اسی میں پانی جمع ہو کر ایک خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔اس افسوسناک واقعے کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور متعلقہ کنٹریکٹر اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande