فضائی نگرانی اور 15 سے زائد بحری جہازکریں گے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ
تہران،14اپریل(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے اعلان کے بعد اب تمام نظریں آبنائے ہرمز پر لگی ہیں، جہاں سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات
فضائی نگرانی اور 15 سے زائد بحری جہازکریں گے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ


تہران،14اپریل(ہ س)۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے بحری محاصرے کے نفاذ کے اعلان کے بعد اب تمام نظریں آبنائے ہرمز پر لگی ہیں، جہاں سے عالمی سطح پر تیل و گیس کی پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد اس کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ یہ محاصرہ خلیج عمان اور بحیرہ عرب تک پھیلا دیا جائے گا۔ اس آپریشن کو آپریشن ایپک فیوری (Operation Epic Fury) کا نام دیا گیا ہے، جس کی حمایت کے لیے 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔ اس میں ابراہم لنکن سمیت دو طیارہ بردار بحری جہاز اور 12 تباہ کن جہاز شامل ہیں۔ مزید برآں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش بھی افریقہ کے راستے خطے کی طرف رواں دواں ہے، جس نے حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے بحیرہ احمر کے بجائے افریقہ والا راستہ اختیار کیا ہے۔محاصرے کی نگرانی کے لیے ڈرونز، جاسوس طیاروں، ریڈارز اور مصنوعی سیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کو ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ یہ محاصرہ وینزویلا کی طرز پر ہوگا، جہاں ایرانی تیز رفتار کشتیوں کو اسی طرح نشانہ بنایا جائے گا جیسے سمندر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بھی خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے حصوں میں ایرانی بندرگاہوں تک رسائی پر پابندیوں کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس یا بحیرہ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں تعطل کی بڑی وجہ یورینیم کی افزودگی کا معاملہ تھا۔ امریکہ 20 سال تک افزودگی روکنے کا مطالبہ کر رہا تھا جبکہ ایران کا اصرار تھا کہ یہ پابندی صرف 5 برس کے لیے ہو۔پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے زور دیا ہے کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے اور مسائل کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ چند روز میں، غالباً جمعرات کو دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande