ایران کو فوجی طور پر شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا:ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن،14اپریل(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو فوجی طور پر شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ بات انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''''ٹروتھ سوشل'''' پر ایک پوسٹ میں کہی، جو نیویارک ٹائمز کی اس رپو
ایران کو فوجی طور پر شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا:ٹرمپ کا دعویٰ


واشنگٹن،14اپریل(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کو فوجی طور پر شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ بات انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر ایک پوسٹ میں کہی، جو نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے جواب میں تھی، جس میں امریکہ کی فتح پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ ٹرمپ نے اخبار سے معافی کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور کوئی بھی معاہدہ اسی شرط پر ہوگا۔ انہوں نے ممکنہ بین الاقوامی حمایت اور کسی معاہدے کے لیے جاری رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کی مقررہ مدت ختم ہونے تک کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے لیے صورتحال خوشگوار نہیں ہوگی اور کشیدگی بدستور برقرار ہے گی۔

اس سے قبل پیر کے روز ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کی کوئی تیز رفتار حملہ آور کشتیاں امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کریں گی تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کرے گا۔ٹرمپ نے ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: انتباہ: اگر ان کشتیوں میں سے کوئی بھی ہماری ناکہ بندی کے قریب آئی تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کے بڑے جہاز پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں اور امریکی افواج وہی طریقہ کار استعمال کریں گی، جو سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔اپنی ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے اور 158 جہاز ڈبو دیے گئے ہیں، جبکہ چند چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کو اس لیے نشانہ نہیں بنایا گیا کیونکہ انہیں بڑا خطرہ نہیں سمجھا گیا۔ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ اتوار کے روز 34 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو ان کے بقول اس ''بے وقوفانہ بندش'' کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔بعد ازاں وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے ،جس سے ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت ملے۔انہوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں اور اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کنٹرول شروع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اسی روز رابطہ کیا ہے اور معاہدہ کرنے میں سنجیدہ ہے۔

ادھر امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ کے مطابق ٹرمپ نے چین کو بھی براہ راست خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کو دوبارہ مسلح نہ کرے۔دریں اثنا پیر کو دوپہر دو بجے وہ مہلت ختم ہو گئی جس کے بعد امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا گیا، جسے ایران نے ''سمندری قزاقی'' قرار دیا ہے۔یہ ناکہ بندی ایران جانے اور وہاں سے آنے والے تمام بحری جہازوں پر لاگو ہوگی۔قبل ازیں ''رائٹرز'' کے مطابق امریکی فوج خلیج عمان اور بحر عرب میں، آبنائے ہرمز کے مشرق میں، بحری کنٹرول نافذ کرے گی۔امریکی فوج نے واضح کیا کہ یہ کنٹرول تمام جہازوں پر لاگو ہوگا، چاہے وہ کسی بھی ملک کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہوں۔ بغیر اجازت علاقے میں داخل ہونے یا نکلنے والے جہازوں کو روکا جا سکتا ہے، ان کا رخ موڑا جا سکتا ہے یا انہیں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان، خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاءکو اجازت دی جائے گی، بشرطیکہ ان کی مکمل تلاشی لی جائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande