
ممبئی ، 14 اپریل (ہ س)۔ مہاراشٹر کے وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائیک نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں یکم مئی سے رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان جاننا لازمی ہوگا۔ جو ڈرائیور مراٹھی پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے جائیں گے۔
وزیر ٹرانسپورٹ نے منگل کے روز ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر ڈے یعنی یکم مئی سے موٹر ٹرانسپورٹ محکمہ کے 59 علاقائی اور ذیلی دفاتر کے ذریعے خصوصی جانچ مہم چلائی جائے گی۔ اس دوران یہ تصدیق کی جائے گی کہ متعلقہ ڈرائیور مراٹھی زبان پڑھ اور لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رکشہ اور ٹیکسی لائسنس جاری کرتے وقت مقامی زبان، یعنی مراٹھی جاننے کا اصول پہلے سے نافذ ہے، تاہم ممبئی میٹروپولیٹن ریجن، اورنگ آباد اور ناگپور جیسے شہروں میں یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ کئی ڈرائیور مسافروں سے مراٹھی میں بات نہیں کر پاتے یا اس سے گریز کرتے ہیں۔
سرنائیک نے کہا کہ جس علاقے میں کوئی شخص کاروبار کرتا ہے، وہاں کی زبان سیکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح اپنی مادری زبان پر فخر ضروری ہے، اسی طرح دوسرے ریاستوں میں کام کرتے وقت وہاں کی زبان کا احترام بھی لازم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یکم مئی سے تمام لائسنس یافتہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی پڑھنا اور لکھنا لازمی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ایسے ٹرانسپورٹ افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غلط طریقے سے لائسنس جاری کرتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے