
حیدرآباد، 14 اپریل (ہ س)۔
وزیراعلی ریونت ریڈی نے لوک سبھا حلقہ جات کی ازسرنوحد بندی اور تعداد میں اضافہ کی مخالفت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جنوبی ریاستوں اورچھوٹی ریاستوں کے ساتھ ناانصافی کی سازش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ سکریٹریٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حد بندی ایک خطرناک اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا حلقوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ کے فیصلہ سے محض شمالی ریاستوں کو فائدہ ہوگا جبکہ جنوبی ریاستوں کے لئے یہ فیصلہ نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام سے ملک کی یکجہتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کیونکہ جنوبی ریاستوں میں ناانصافی کاجذبہ پیدا ہوگا۔ ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت کو تجویز پیش کی کہ 50 فیصد نشستوں کودوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مردم شماری اور مجموعی شرح ترقی کے اعتبار سے ریاستوں کو الاٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں اہم حصہ ادا کرنے والی جنوبی ریاستوں کو انعام دیا جانا چاہئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جنوبی ریاستیں سیاسی طورپرناانصافی کو برداشت نہیں کریں گی جبکہ ملک کی معیشت میں ان کا اہم رول ہے۔ یہ معاملہ صرف بی جے پی کا نہیں بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں اورعوام کا ہے۔ وزیراعلی نے یاد دلایا کہ 1967 اور 1976میں از سرنوحد بندی کے ذریعہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کیا گیا لیکن بعد میں نشستوں کی حد طئے کردی گئی۔ علاقائی توازن کی برقراری کے لئے آنجہانی اندرا گاندھی نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 2001 میں اٹل بہاری واجپائی حکومت نے دستوری ترمیم کے ذریعہ 2026 تک لوک سبھا نشستوں کی تعداد کو برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کی جانب سے نئی حد بندی کی مخالفت کی جارہی ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ 50 فیصد نشستوں میں اضافہ کے نتیجہ میں شمالی اورجنوبی ریاستوں کی نشستوں میں بھاری فرق رہے گا۔ انہوں نے کیرالااور اترپردیش کی مثال پیش کی جہاں لوک سبھا نشستوں کی تعداد 20 اور80 ہے۔ نشستوں میں اضافہ کے بعد دونوں ریاستوں میں نشستوں کا فرق 90 ہوجائے گا کیونکہ اترپردیش کی نشستیں 120 ہوجائیں گی اور کیرالا کی نشستیں 30 ہوں گی۔ انہوں نے مرکزسے مطالبہ کیا کہ خواتین تحفظات اورحلقہ جات کی تعداد میں اضافہ کوایک ساتھ نافذ نہ کرے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ 50 فیصد یعنی 273 اضافی نشستوں میں نصف نشستیں معاشی ترقی اور باقی نشستیں مردم شماری کی بنیاد پرطئے کی جائیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خواتین تحفظات اور نشستوں کی حدبندی کو ملاکر بی جے پی سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق