
ممبئی ، 14 اپریل (ہ س)۔ ممبئی کے گورےگاؤں واقع نیسکو کمپلیکس میں ڈرگ پارٹی کے دوران دو طلبہ کی موت کے واقعے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے مہایوتی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست کی نوجوان نسل تیزی سے منشیات کے جال میں پھنس رہی ہے جبکہ سرکاری نظام اور پولیس محکمہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
سپکال نے الزام لگایا کہ نیسکو کمپلیکس میں منعقدہ لائیو میوزک کنسرٹ کے دوران شراب اور منشیات کا کھلے عام استعمال کیا گیا، اور اب محض نمائشی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک ہی مقام پر چار سے پانچ ہزار نوجوانوں کی ڈرگ پارٹی ہو رہی تھی تو پولیس کو اس کی اطلاع کیسے نہیں ملی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف ممبئی تک محدود نہیں بلکہ پورے مہاراشٹر میں منشیات کا غیر قانونی کاروبار پھیل چکا ہے، جو مبینہ طور پر حکومتی سرپرستی میں چل رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ناکامی کے باعث نوجوان نسل اس خطرناک دلدل میں پھنس رہی ہے، جبکہ پولیس اور متعلقہ ایجنسیاں اس پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔
سپکال نے مزید الزام عائد کیا کہ ایک نائب وزیر اعلیٰ کے بھائی کے کھیت میں ڈرگس فیکٹری چلنے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا، لیکن اس پر صرف رسمی کارروائی کر کے معاملہ دبا دیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف ڈرگ کیسز، جیسے للت پاٹل کیس، ناسک اور ستارا کے معاملات، سب کے تار بااثر افراد سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ نیسکو میں ہزاروں طلبہ کی اس طرح کی پارٹی کو اجازت کس نے دی اور حکومت و پولیس کس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی نظام عوامی خدمت کے بجائے دیگر غیر متعلقہ سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
سپکال نے آخر میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ محکمہ داخلہ اور انتظامیہ کو سنبھالنے میں ناکام ہیں تو انہیں اپنے عہدے پر نظرثانی کرنی چاہیے، لیکن ریاست کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے